مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

حیاتِ نو کی حیاتِ تازہ

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:تنظیموں اور انجمنوں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ جہاں انسان ہوں گے وہاں اختلافات ہوں گے۔ یہ اختلافات دائمی انتشار میں نہ بدل جائیں، اس بات کی کوشش ہونی چاہیے۔ انجمن طلبہ ق...

تنظیموں اور انجمنوں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ جہاں انسان ہوں گے وہاں اختلافات ہوں گے۔ یہ اختلافات دائمی انتشار میں نہ بدل جائیں، اس بات کی کوشش ہونی چاہیے۔ انجمن طلبہ قدیم جامعۃ الفلاح کی تاریخ میں اتار چڑھاؤ ایک حقیقت ہے۔ سخت ترین اختلافات ہوئے لیکن بالآخر اتحاد کی طرف لوگوں نے قدم بڑھایا اور اس اتحاد کی افادیت کو سب نے محسوس کیا۔

گزشتہ چند سالوں میں انجمن طلبہ قدیم پھر سے انتشار اور جمود کا شکار ہوئی۔ انتخابات وقت مقررہ پر نہ ہوسکے۔ انجماد کی صورت میں انجمن کی بحالی کے لیے دستور میں کوئی شق نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ عام فلاحیوں میں اس صورت حال کو لے کر بے چینی شدت اختیار کرتی جارہی تھی۔ بالآخر برادران فلاح کے درمیان سے ایک تحریک اٹھی جس نے کچھ اہداف طے کیا۔ سب سے پہلے مادر علمی کے زمینی مسائل کے حل کے لیے سوا کروڑ کا تعاون پیش کیا۔ اس کے بعد انجمن کے جمود کو ختم کرنے کے لئے عام فلاحیوں کے مشورے سے 16 رکنی عبوری کمیٹی کی تشکیل ہوئی۔ عبوری کمیٹی نے ایک ماہ کی مسلسل مشاورت اور گفتگو کے بعد عام فلاحیوں کے تعاون سے انتخابی کمیٹی تشکیل دی۔ انتخابی کمیٹی نے انتخابی لوازمات کی تکمیل کے بعد نمائندگان کے انتخاب کا اعلان کیا۔ فلاحیوں کی جانب سے بھر پور تعاون ملا اور تقریباً 12 سو فارغین نے ووٹ دے کر انتخابات کو تاریخی بنا دیا۔ انجمن کی تاریخ میں اس تعداد میں ووٹنگ کبھی نہیں ہوئی تھی۔

رمضان سے قبل نمائندگان کا انتخاب مکمل ہو گیا۔ اب نمائندگان کا کام شوری اور صدر کا انتخاب تھا۔ الحمدللہ مئی میں مادر علمی میں نمائندگان کا اجلاس ہوا۔ نمائندگان کی اکثریت نے آن لائن اور آف لائن شرکت کی۔ سب سے پہلے 21 رکنی شوریٰ کا انتخاب ہوا۔ اس کے بعد نمائندگان کی اکثریت سے جناب طارق اکرام اللہ کو صدر منتخب کیا۔

جناب طارق اکرام اللہ کا شمار جامعۃ الفلاح کے ابتدائی دور کے ممتاز فارغین (فضیلت: 1976ء) میں ہوتا ہے۔ تعلیمی، رفاہی اور سماجی میدان میں آپ کی خدمات ملک گیر سطح پر نہایت وسیع، مؤثر اور مختلف النوع ہیں۔ آپ 1981ء میں قائم ہونے والے معروف تعلیمی ادارے اسٹوڈنٹس اسلامک ٹرسٹ (SIT)کے بانی جنرل سکریٹری ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامک ڈیولپمنٹ بینک (IDB) کے پروفیشنل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف (Scholarships) کی نگرانی کرنے والے مینیجنگ ادارے کے کاؤنٹر پارٹ (مشرِف) کی ذمہ داری بھی انجام دے رہے ہیں۔ مزید برآں، آپ سماجی و تعلیمی بیداری کے ممتاز ادارے سیڈ (SEED – Socio Economic Educational Society) کے چیف فنکشنری، نیز بلا سود مائیکرو فنانسنگ فراہم کرنے والے ادارے جن سیوا کریڈٹ کوآپریٹیو سوسائٹی کے بانی ڈائریکٹر اور رکنِ بورڈ ہیں۔

ان کے وسیع ادارہ جاتی، انتظامی، تعلیمی اور مالیاتی تجربے کے پیشِ نظر فارغینِ فلاح پُرامید ہیں کہ ان کی متحرک قیادت میں انجمن نہ صرف اپنی سابقہ روایت اور وقار کو مزید مستحکم کرے گی بلکہ خدمت کے نئے سنگِ میل بھی طے کرے گی، ان شاء اللہ۔

نمائندگان کے ذریعے شوریٰ اور صدر کے انتخاب کی تکمیل کے بعد مجلسِ شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ شوریٰ کے مشورے سے ڈاکٹر محمد اسامہ عظیم فلاحی کو سکریٹری انجمن اور جناب شمس الدین فلاحی کو خازن منتخب کیا گیا۔

اسی اجلاس میں بند پڑے حیات نو کی دوبارہ اشاعت کا فیصلہ ہوا۔ چند دنوں بعد شوری کی ایک آن لائن نشست کے ذریعے جناب خبیب کاظمی، مقیم حال قطر  کو مجلے کا مدیر منتخب کیا گیا۔ محترم خبیب صاحب نے محنت کرکے ادارتی اور انتظامی ٹیمیں منتخب کیں اور حیاتِ نو کی دوبارہ اشاعت کو یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزاے خیر سے نوازے۔ آمین

فارغین فلاح سے گزارش ہے کہ فلاح اور انجمن کے مقاصد کے حصول کے لیے حیات نو کی ملت میں زیادہ سے زیادہ نفوذ کی راہیں تلاش کریں اور اس کو ایک باوقار علمی اور فکری مجلہ بنانے میں تعاون کریں۔

ہمارا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے افراد سازی کا عمل سب سے اہم ہوتا ہے۔ افراد ہی کسی نصب العین کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔ یہ افراد ہر قسم کی تنظیمی، جماعتی اور مسلکی عصبیتوں سے پاک ہونے چاہئیں۔ ورنہ یہ افراد اپنی افادیت کھو دیں گے اور ادارہ بھی اپنے مقاصد میں پیچھے رہ جائے گا۔

الحمد للہ فارغین بڑی حد تک مسلکی تعصبات  سے پاک ہیں، البتہ اعلاء کلمۃ اللہ کی جد و جہد کے حوالے سے  صورت حال اطمینان بخش نہیں کہی جاسکتی۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اس مجلے کے ذریعے اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔

ڈاکٹر محمد اسامہ عظیم فلاحی

ق

ابو عبادہ عظیم فلاحی

(مربی و محقق اسلامیات)

صحابہ کرامؓ کی سیرت اور قرآنی دعوت کے موضوع پر مستقل قلم کار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←