مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

ہجرتِ مدینہ کا پیغام: تعمیرِ ملت میں نوجوانوں کا کردار

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:اسلامی تاریخ میں ہجرتِ مدینہ محض ایک تاریخی واقعہ یا جغرافیائی نقلِ مکانی نہیں، بلکہ ایک عظیم فکری، سماجی اور تہذیبی انقلاب کا نقطۂ آغاز ہے۔ مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام نے ایمان اور ...

اسلامی تاریخ میں ہجرتِ مدینہ محض ایک تاریخی واقعہ یا جغرافیائی نقلِ مکانی نہیں، بلکہ ایک عظیم فکری، سماجی اور تہذیبی انقلاب کا نقطۂ آغاز ہے۔ مکہ مکرمہ میں دعوتِ اسلام نے ایمان اور عقیدے کی بنیادیں استوار کیں، جبکہ مدینہ منورہ میں اسی دعوت نے ایک منظم اسلامی معاشرے اور ریاست کی شکل اختیار کی۔ ہجرت کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ کسی بھی صالح معاشرے کی تعمیر کے لیے ایمان، قربانی، نظم اور باکردار افراد کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس عظیم جدوجہد میں نوجوان ہمیشہ صفِ اول میں رہے ہیں۔

ہجرت کا مفہوم صرف وطن چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر اس چیز کو ترک کرنا بھی ہے جو دین کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ یہی جذبۂ ایثار اور استقامت اسلامی انقلاب کی روح ہے۔

ہجرت کی تیاری اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں

ہجرتِ مدینہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے لیے پہلے سے فکری اور دعوتی بنیادیں استوار کی گئی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو ہجرت سے قبل مدینہ بھیجا تاکہ وہاں اسلام کی دعوت پہنچائیں، قرآن کی تعلیم دیں اور نو مسلموں کی تربیت کریں۔ ان کی دعوتی جدوجہد ہی کے نتیجے میں مدینہ کا ماحول اسلام کے لیے سازگار ہوا اور ہجرت کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک مخلص نوجوان پوری تاریخ کا رخ موڑنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

ہجرت کا سفر اور نوجوانوں کی قربانیاں

ہجرت کے موقع پر بھی نوجوان صحابۂ کرامؓ نے بے مثال خدمات انجام دیں۔ حضرت علیؓ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر رسول اللہ ﷺ کے بستر پر سو کر امانت و وفاداری کی عظیم مثال قائم کی۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے نہایت حکمت اور جرأت کے ساتھ غارِ ثور تک کھانا پہنچایا، جبکہ حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ رات کے وقت قریش کی خبریں لا کر رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے رہے۔ حضرت عامر بن فہیرہؓ اپنی بکریوں کے ذریعے راستوں کے نشانات مٹا دیتے تھے تاکہ دشمن تعاقب نہ کر سکے۔ حضرت زبیر بن عوامؓ بھی ابتدائی دور کے ان نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے ہر مرحلے پر اسلام کی نصرت اور دفاع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

یہ واقعات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ اسلامی انقلاب کی بنیاد رکھنے میں نوجوانوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ محض تاریخی اتفاق نہیں بلکہ امت کے لیے ایک دائمی پیغام ہے۔

ریاستِ مدینہ اور نئی نسل کی تعمیر

ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مسجدِ نبوی کی تعمیر فرمائی، مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات قائم کی اور میثاقِ مدینہ کے ذریعے ایک منظم اور عادلانہ معاشرے کی بنیاد رکھی۔ ان اقدامات نے صرف ایک ریاست قائم نہیں کی بلکہ ایک ایسی نسل تیار کی جو علم، کردار، خدمت اور قیادت کا نمونہ بن گئی۔

ہجرت کے بعد مدینہ میں تشکیل پانے والے علمی اور انتظامی معاشرے میں نوجوان صحابۂ کرامؓ نے اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان میں حضرت زید بن ثابتؓ نمایاں ہیں، جنہوں نے کتابتِ وحی، تعلیم اور انتظامی امور میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے اور انہیں ملت کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع دیتا ہے۔

آج کے نوجوانوں کے لیے ہجرت کا پیغام

آج امتِ مسلمہ کو بھی ایسے ہی باکردار، باصلاحیت اور باشعور نوجوانوں کی ضرورت ہے جو علم، اخلاق، دیانت، خدمت اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔ ہجرتِ مدینہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تعمیر محض وسائل سے نہیں بلکہ صالح انسانوں سے ہوتی ہے، اور ان صالح افراد کی تیاری میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔

اگر آج کا نوجوان حضرت مصعب بن عمیرؓ کے جذبۂ دعوت، حضرت علیؓ کی وفاداری، حضرت اسماءؓ کی ہمت، حضرت عبداللہ بن ابی بکرؓ کی ذمہ داری اور حضرت زید بن ثابتؓ کی علمی لگن کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو وہ اپنی ملت اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

ہجرتِ مدینہ میں ہمارے لیے یہ اہم پیغام ہے کہ ہر بڑی تبدیلی کے پیچھے ایمان، قربانی اور باکردار افراد کی جدوجہد ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ نوجوان صحابۂ کرامؓ نے ہجرت کی تیاری، اس کے مراحل اور اس کے بعد اسلامی معاشرے کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج بھی ملت کا روشن مستقبل ایسے ہی نوجوانوں سے وابستہ ہے جو علم و عمل، کردار و تقویٰ اور خدمتِ دین کے جذبے سے سرشار ہوں۔ یہی ہجرتِ مدینہ کا زندہ پیغام ہے اور یہی تعمیرِ ملت کی حقیقی بنیاد بھی۔

تحریر: ضیاء الرحمٰن عابد فلاحی

ق

ضیاء الرحمٰن عابد فلاحی

(فاضل جامعۃ الفلاح و مربی)

نوجوانوں کی اسلامی تربیت اور تعمیری کردار پر فکری و دعوتی مقالہ نگار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←