مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

جب طاقت سوال کے کٹہرے میں کھڑی ہو جائے

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:ایران سے عراق تک طاقت ، مفاد اور ضمیر کی کشمکش

ایران سے عراق تک طاقت ، مفاد اور ضمیر کی کشمکش

جنگیں صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتیں، ان سے پہلے الفاظ کی ایک جنگ بھی لڑی جاتی ہے۔ توپوں کی گھن گرج سنائی دینے سے پہلے دلیلوں ، دعوؤں ، خوف، خدشات اور قومی سلامتی کے نام پر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے جو جنگ کو ناگزیر ثابت کرے۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ دشمن دروازے پر کھڑا ہے، خطرہ قریب ہے، کارروائی ناگزیر ہے، اور طاقت کا استعمال امن کے قیام کے لیے ضروری ہے۔

لیکن تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے۔ وہ جنگ کے دوران نہیں بولتی، بلکہ اس وقت بولتی ہے جب بارود کی بو فضا سے ختم ہو چکی ہوتی ہے، جب سرکاری بیانات سرکاری ریکارڈ بن چکے ہوتے ہیں، اور جب خفیہ دستاویزات آہستہ آہستہ منظر عام پر آنا شروع ہوتی ہیں۔ تب تاریخ ایک ایسا سوال اٹھاتی ہے جو ہر دور میں طاقت کے ایوانوں کو بے چین کرتا آیا ہے: کیا یہ جنگ واقعی ناگزیر تھی ، یا اسے ناگزیر بنا کر پیش کیا گیا تھا ؟

اسی سوال نے گزشتہ چند برسوں میں ایران کے حوالے سے ہونے والی کشیدگی کو بھی ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن اس کے گرد تشکیل پانے والا بیانیہ، اس کے قانونی جواز ، اس کے سیاسی محرکات اور اس کے اخلاقی مضمرات آج بھی بحث کا موضوع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحث کو محض ایک علاقائی تنازع سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ یہ دراصل جدید عالمی سیاست کے اس مستقل رویے کا حصہ ہے جس میں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے لیے ایک اخلاقی اور قانونی جواز بھی تراشا جاتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر جنگ کے دوران سب لوگ یکساں نہیں سوچتے ۔ طاقت کے مراکز کے اندر بھی ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو سرکاری بیانیے سے اختلاف کرتے ہیں ، سوال

اٹھاتے ہیں، اور کبھی کبھی اپنے منصب، اپنے مستقبل اور اپنی آسائش کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی آوازیں اکثر شور میں دب جاتی ہیں ، لیکن وقت گزرنے کے بعد یہی آوازیں تاریخ کے صفحات میں سب سے زیادہ معتبر گواہ بن کر سامنے آتی ہیں۔

ایران اور امریکہ کی حالیہ کشیدگی کے دوران بھی امریکی قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (National Counterterrorism Center NCTC) کے ڈائریکٹر جو کینٹ (Joe Kent) کا استعفا اسی نوعیت کا ایک واقعہ تھا۔ انہوں نے اپنے موقف میں اس خیال سے اختلاف کیا کہ ایران امریکہ کے لیے کوئی ایسا “قریب الوقوع خطرہ” تھا جو جنگ کو ناگزیر بنا دیتا۔ ایک ایسے شخص کی یہ رائے ، جو امریکی قومی سلامتی کے نظام کا حصہ رہا ہو، محض ایک انتظامی اختلاف نہیں بلکہ ضمیر کی گواہی کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ تاریخ میں ایسے واقعات اس لیے اہم ہوتے ہیں کہ وہ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ریاستی ادارے کبھی بھی ایک ہی آواز پر مشتمل نہیں ہوتے ۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے خطے میں بعض حلقوں نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کو ایک ایسے سادہ اور سطحی تصور میں قید کر دیا ہے جس کے مطابق گویا دونوں ایک دوسرے کے حقیقی حریف نہیں بلکہ پسِ پردہ اتحادی ہیں، یا یہ کہ امریکہ کبھی ایران کو حقیقی نقصان پہنچانا ہی نہیں چاہتا۔ اس قسم کے تصورات جذباتی نعروں میں تو کشش رکھتے ہیں لیکن تاریخ کے ریکارڈ پر پورا نہیں اترتے۔

اگر کوئی شخص گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ کو غیر جانب داری سے پڑھے تو اسے معلوم ہوگا کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات وقتی سیاسی اتار چڑھاؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، پیچیدہ اور تلخ تاریخی عمل کی پیداوار ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے صرف حالیہ واقعات کافی نہیں، بلکہ ہمیں تاریخ کے ان صفحات کی طرف رجوع کرنا ہوگا جہاں اس کشیدگی کی جڑیں پیوست ہیں ۔

امریکی مؤرخ اسٹیفن کنزر (Stephen Kinzer) کی معروف کتاب All the Shah’s Men اسی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب ہمارے سامنے کھولتی ہے۔ کنزر نے دستاویزی شواہد کی بنیاد پر یہ واضح کیا ہے کہ 1953ء میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی انٹیلی جنس نے مشترکہ کارروائی کے ذریعے ایران کے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس کارروائی کا مقصد صرف ایک حکومت کو تبدیل کرنا نہیں تھا، بلکہ ایران کے تیل پر مغربی مفادات کا تحفظ بھی اس کے پس منظر میں موجود تھا۔

ڈاکٹر محمد مصدق کا “جرم” یہ تھا کہ انہوں نے ایران کے قدرتی وسائل کو قومی ملکیت میں لے کر یہ اعلان کیا کہ کسی آزاد ریاست کے وسائل پر غیر ملکی طاقتوں کا مستقل قبضہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس فیصلے نے برطانیہ کے معاشی مفادات کو چیلنج کیا، اور بعد ازاں سرد جنگ کے ماحول میں اسے کمیونزم کے خطرے سے جوڑ کر امریکہ کو بھی مداخلت پر آمادہ کر لیا گیا۔

اسٹیفن کنزر کی تحقیق صرف ایک تاریخی واقعہ بیان نہیں کرتی بلکہ ایک مستقل سیاسی طریقہ کار کی نشاندہی کرتی ہے؛ یعنی جب بھی کسی ملک میں معاشی یا سیاسی مفادات خطرے میں پڑتے ہیں تو ان کے گرد ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے جو مداخلت کو اخلاقی فریضہ ، سلامتی کی ضرورت یا عالمی امن کا تقاضا بنا کر پیش کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 1953ء کی ایرانی بغاوت کو صرف ماضی کا ایک واقعہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے بعد عراق ، افغانستان، لیبیا اور دیگر خطوں میں پیش آنے والے واقعات کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے کردار بدلتی ہے لیکن اسکرپٹ اکثر وہی رہتا ہے۔

اگر جنگوں کا جائزہ صرف عسکری کامیابیوں اور سیاسی نتائج کی بنیاد پر لیا جائے تو شاید بہت سی مداخلتیں درست محسوس ہونے لگیں ۔ لیکن جب انہی جنگوں کو تاریخ، بین الاقوامی قانون اور انسانی ضمیر کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے تو منظر نامہ یکسر بدل جاتا ہے۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ جنگ کے آغاز میں جو دلائل نا قابل تردید محسوس ہوتے تھے، چند برس بعد خود انہی پر سب سے زیادہ سوالات اٹھنے لگے۔

عراق : جب ” تباہ کن ہتھیار” غائب ہو گئے

سن 2003ء میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملے کا بنیادی جواز یہ پیش کیا کہ صدام حسین کی حکومت کے پاس Weapons of Mass Destruction-WMD موجود ہیں۔ دنیا کو بتایا گیا کہ عراق ایسے کیمیائی اور ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے فوری خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ بیانیہ اتنی شدت سے پیش کیا گیا کہ عالمی رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ اس جنگ کو ناگزیر سمجھنے لگا۔ لیکن جنگ کے بعد، جب عراق کے طول و عرض میں مہینوں تک تلاش کی گئی، تو وہ ہتھیار کبھی برآمد نہ ہو سکے جنہیں اس جنگ کا بنیادی جواز بنایا گیا تھا۔

بعد میں سامنے آنے والی امریکی اور برطانوی تحقیقاتی رپورٹس نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ جنگ سے پہلے فراہم کی جانے والی انٹیلی جنس معلومات یا تو ناقص تھیں، یا ان کی تشریح میں مبالغہ

کیا گیا تھا۔ یوں ایک ایسا بیانیہ، جس نے لاکھوں انسانوں کی تقدیر بدل دی، خود تاریخ کے سامنے کمزور پڑ گیا۔

یہ سوال آج بھی باقی ہے کہ اگر وہ خطرہ واقعی موجود نہیں تھا تو کیا اس جنگ کو روکا جاسکتا تھا ؟

افغانستان : دہشت گردی کے خلاف جنگ یا ایک نہ ختم ہونے والا تنازع ؟

11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکہ نے افغانستان میں فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس کارروائی کا قانونی اور اخلاقی جواز القاعدہ کے خلاف کارروائی اور اسامہ بن لادن کی گرفتاری تھا۔ ابتدا میں دنیا کی بڑی تعداد نے اس اقدام کو دہشت گردی کے خلاف ایک جائز رد عمل سمجھا۔

لیکن چند ہفتوں کی کارروائی کے طور پر شروع ہونے والی جنگ تقریباً دو دہائیوں پر محیط ایک طویل تنازع میں تبدیل ہوگئی ۔ ہزاروں فوجی ، لاکھوں افغان شہری ، کھربوں ڈالر کے اخراجات، اور بالآخر 2021ء میں وہی طالبان دوبارہ اقتدار میں آگئے جنہیں ہٹا کر یہ جنگ شروع کی گئی تھی۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی ضروری تھی یا نہیں ؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا جنگ اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کر سکی؟ اگر نتیجہ وہی نکلا جہاں سے سفر شروع ہوا تھا تو تاریخ لازماً اس حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لے گی۔

لیبیا: انسانی تحفظ کے نام پر ایک ریاست کا انہدام

2011ء میں لیبیا میں نیٹو کی فوجی مداخلت کو “Responsibility to Protect” کے اصول کے تحت جائز قرار دیا گیا۔ دنیا کو بتایا گیا کہ اگر فوری اقدام نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہوگا۔

فوجی کارروائی نے معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ تو کر دیا لیکن اس کے بعد لیبیا ایک مستحکم اور پر امن ریاست بننے کے بجائے مسلسل خانہ جنگی، مسلح گروہوں، سیاسی تقسیم اور ادارہ جاتی انہدام کا شکار ہو گیا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر یہی سوال سامنے لاتا ہے کہ اگر کسی مداخلت کا اخلاقی مقصد انسانی جانوں کا تحفظ ہو، لیکن اس کے نتائج ایک پورے معاشرے کو طویل عدم استحکام میں دھکیل دیں ، تو تاریخ اس مداخلت کا فیصلہ کس بنیاد پر کرے گی؟

بین الاقوامی قانون اور “قریب الوقوع خطرہ”

بین الاقوامی نظام میں جنگ کے جواز کا سب سے بنیادی اصول اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق کسی ریاست کو یک طرفہ فوجی طاقت استعمال کرنے کا حق بنیادی طور پر دوصورتوں میں حاصل ہوتا ہے: یا اس پر بالفعل مسلح حملہ ہو چکا ہو، یا ایسا واضح اور قریب الوقوع خطرہ موجود ہو جسے ٹالنا ممکن نہ ہو۔

اسی لیے بین الاقوامی قانون میں Imminent Threat، یعنی “قریب الوقوع خطرہ” ، محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک قانونی معیار ہے۔ اگر اس معیار کی تشریح سیاسی مفادات کے تابع ہو جائے تو پھر دنیا کا کوئی بھی ملک کسی بھی وقت کسی دوسرے ملک کو اپنے لیے ممکنہ خطرہ قرار دے کر جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔ اس صورت میں بین الاقوامی قانون اپنی اخلاقی بنیاد کھو بیٹھتا ہے۔

اسی وجہ سے گزشتہ دو دہائیوں میں متعدد قانونی ماہرین نے عراق، لیبیا اور دیگر فوجی مداخلتوں کے قانونی جواز پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ اختلاف صرف سیاسی نہیں بلکہ اصولی بھی ہے، کیونکہ قانون کی قوت اسی وقت باقی رہتی ہے جب اس کا اطلاق طاقتور اور کمزور، دونوں پر یکساں ہو۔

بیانیہ اور حقیقت کے درمیان تضاد

تاریخ کے ان تمام ابواب میں ایک قدر مشترک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ہر جنگ سے پہلے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس نے خوف کو دلیل ، شبے کو یقین ، اور امکان کو فوری خطرہ بنا کر پیش کیا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، سرکاری بیانیے اور تاریخی حقیقت کے درمیان فاصلہ واضح ہوتا گیا۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ہمارے اپنے معاشروں میں بھی بعض اوقات سیاسی وابستگیاں ، مسلکی تعصبات یا نظریاتی ترجیحات اتنی غالب آجاتی ہیں کہ ہم تاریخ کو اپنی خواہش کے مطابق پڑھنے لگتے ہیں۔ ایران کے حوالے سے بھی بعض حلقوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امریکہ اور ایران کی کشمکش محض ایک ڈراما ہے، یا دونوں در حقیقت ایک ہی منصوبے کا حصہ ہیں۔

لیکن اگر 1953ء میں ڈاکٹر محمد مصدق کی منتخب حکومت کے خلاف ہونے والی امریکی و برطانوی مداخلت ، اس کے بعد ربع صدی تک شاہ کی آمریت کی سرپرستی ، 1979ء کے انقلاب کے بعد مسلسل کشیدگی ، معاشی پابندیوں، سفارتی تصادم اور مختلف عسکری بحرانوں کو ایک تاریخی تسلسل میں دیکھا جائے تو یہ سادہ بیانیہ حقیقت کی پیچیدگیوں کا احاطہ نہیں کرتا۔

سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مذہبی یا فقہی تنقید اپنی جگہ لیکن تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ریاستوں کے تعلقات کو محض جذباتی نعروں یا نظریاتی پسند و ناپسند کے ترازو میں نہیں تولا جا

سکتا۔ سنجیدہ تجزیہ ہمیشہ شواہد ، تاریخی تسلسل اور بین الاقوامی سیاست کے حقائق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

اسی لیے کسی بھی جنگ یا کشیدگی کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ طاقت کے مراکز کیا کہہ رہے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ دیکھنا ہے کہ ان مراکز کے اندر سے کون سی آوازیں اختلاف کر رہی ہیں ۔ اکثر یہی آوازیں بعد میں تاریخ کی معتبر شہادت بن جاتی ہیں۔

ضمیر کی آواز اور تاریخ کا فیصلہ

تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے کہ وہ صرف فاتحین کے فیصلے محفوظ نہیں رکھتی، بلکہ ان آوازوں کو بھی یاد رکھتی ہے جو طاقت کے شور میں ضمیر کی بات کرتی ہیں۔

ایران کے حوالے سے حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی قومی سلامتی کے ادارے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر (NCTC) کے سربراہ جو کینٹ (Joe Kent) کا استعفا اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے شخص کی طرف سے جنگی جواز پر سوال اٹھانا ، جو خود امریکی سلامتی کے نظام کا حصہ رہا ہو، اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ریاستی اداروں کے اندر بھی ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو فیصلوں کو صرف طاقت اور مفاد کے زاویے سے نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کے آئینے میں بھی دیکھتے ہیں۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن ان کے جواز پر سوال باقی رہتے ہیں۔ عراق میں تباہ کن ہتھیاروں کا دعوی ، افغانستان کی طویل جنگ، لیبیا کا بحران اور ایران کے ساتھ کشیدگی ، یہ سب واقعات ایک ہی بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں : کیا جنگ واقعی ناگزیر تھی، یا اسے ناگزیر بنا کر پیش کیا گیا ؟

اسٹیفن کنزر کی کتاب All the Shah’s Men سے لے کر آج کے عالمی تنازعات تک ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں چلتی ، بلکہ بیانیوں سے بھی چلتی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ ان بیانیوں کو بھی پرکھتی ہے اور ان کے پیچھے چھپے مفادات کو بھی سامنے لاتی ہے۔

آخر کار جنگوں کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا۔ میدان میں طاقت فیصلہ کرتی ہے، لیکن تاریخ کے کٹہرے میں سچائی ، اخلاق اور ضمیر فیصلہ کرتے ہیں۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ آنے والی نسلیں ہمیشہ یہ سوال پوچھتی رہیں گی : کیا یہ جنگ واقعی ضروری تھی ، یا انسان کے پاس اسے روکنے کا کوئی راستہ موجود تھا ؟

ابوخزیمہ فلاحی

ق

ابوخزیمہ فلاحی

(فاضل جامعۃ الفلاح و سیاسی مبصر)

بین الاقوامی سیاسی و جغرافیائی کشمکش اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے تجزیہ نگار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←