مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

آہ! ڈاکٹر خلیل احمد مرحوم

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:ہم سب کے مشفق اور دردمند قوم و ملت ڈاکٹر خلیل احمد صاحب کا دنیا سے جانا یقیناً ایک بڑا سانحہ ہے۔ لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جو بھی اس روئے زمین پر آیا ہے اسے ایک دن اس دنیائے فانی ک...

ہم سب کے مشفق اور دردمند قوم و ملت ڈاکٹر خلیل احمد صاحب کا دنیا سے جانا یقیناً ایک بڑا سانحہ ہے۔ لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جو بھی اس روئے زمین پر آیا ہے اسے ایک دن اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر رب قدیر کے ہاں جانا ہے، كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالإِكْرَام — ڈاکٹر خلیل احمد صاحب نے عمر مستعار کی ایک طویل زندگی گزاری، اس طرح گزاری کہ وہ دوسروں کے لیے ایک نمونہ بن گئی ۔ ۱۹۵۶ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طبیہ کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی اور پھر اسی فن کے ذریعہ خدمت خلق میں لگ گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس پیشے میں ان کو بڑی نیک نامی اور مقبولیت عطا کی ، خصوصاً امراض اطفال میں ان کی حذاقت کا بڑا شہرہ ہوا۔ طبابت پیشہ ضرور رہا مگر ان کی عملی دلچسپی کا میدان تعلیم کا قوم میں فروغ تھا، اسی لیے جب وطن واپس آئے تو اپنے چند قریبی ساتھیوں کے ساتھ قصبہ بلریا گنج کے ایک قدیم مکتب پر توجہ کی اور اس کی ترقی کے لیے خود کو وقف کر دیا ، حقیقت یہ ہے کہ یہی مکتب جامعۃ الفلاح بنا، اس کے بنیاد گزاروں میں ان کا نام سب سے پہلے زبان پر آتا ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ اس کی تعمیر وترقی میں ان کا گراں قدر حصہ ہے۔

مرحوم کی سر پرستی اس جامعہ کو اس طرح حاصل رہی کہ وہ متعدد بار ناظم ہوئے ، دور اول میں ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۹ء تک اور پھر ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۳ ء تک اور آخر میں ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۰ ء تک وہ نظامت کے عہدہ کو سنبھالتے رہے اور جب جامعۃ الفلاح جیسا بڑا ادارہ ہو ، اس کا کار نظامت اتنا آسان نہیں ہوتا ہے، لیکن انھوں نے جس حسن و خوبی سے یہ فرض انجام دیا وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جامعۃ الفلاح کے نصاب تعلیم کی تشکیل میں بھی ان کا بنیادی اور اہم کردار رہا ہے۔ ان کا یہ نظریہ تھا کہ تعلیم قدیم وجدید کا سنگم ہونی چاہیے۔ وہ نو جوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرتے اور ان کی تعلیمی رہنمائی کرتے۔

ڈاکٹر صاحب جماعت اسلامی کے بھی ایک اہم رکن تھے اور اس حیثیت سے بھی انھوں نے جماعت کی بڑی خدمت کی، بلریا گنج میں جماعت ہی کی جانب سے یتیم بچوں کے لیے گلشن اطفال کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا تو اس کی صدارت کی ذمہ داری اور تعمیر و ترقی میں انھوں نے سرگرم حصہ لیا۔

میری خوش نصیبی ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے میرا تعلق قائم ہوا اور یہ وقت کے ساتھ مضبوط تر ہوتا گیا، مجھے ان کی قربت کی نعمت ملی ، وہ میرے لیے نہایت مشفق اور کرم فرما تھے، یہی وجہ بنی کہ آج چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ان کو یاد کرنے اور ان کے اعمال حسنہ کا تذکرہ کرنے کی توفیق ملی ۔

حقیقت یہ ہے کہ میں نے ان کی زندگی کا بغور مشاہدہ کیا، ایک واقعہ کا ذکر یہاں مناسب ہے۔ میں کئی سالوں سے لکھنو میں مقیم ہوں ، ڈاکٹر صاحب کا یہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ میرے پاس آئے تو مجھے دیکھ کر فرمایا کہ وسیم کیا بات ہے طبیعت تو ٹھیک ہے؟ بہت پریشان نظر آ رہے ہو۔ میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن ان کا اضطراب بڑھتا گیا اور کہا ضرور کوئی بات ہے، انھوں نے اپنے جیب خاص سے کچھ رقم عنایت کی اور کہا اس کو رکھ لو۔ یہ ان کی بے پناہ محبت و شفقت کی ایک نا قابل فراموش یاد ہے۔ وہ تو رخصت ہوئے اور پھر اس دنیا سے بھی رخصت ہو گئے لیکن وہ دل سے کبھی الگ نہیں ہوں گے۔ ان کا اس دنیا سے جانا ذاتی طور پر میرا اپنا غم ہے ۔

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

ڈاکٹر صاحب شہرت کے طالب کبھی نہیں رہے ان میں عجز و انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ان کی شخصیت اس پھول کی طرح تھی جو خاموشی سے اپنی خوشبو بکھیرتا ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بیش تر حصہ جامعہ کی تعمیر وترقی کے لیے وقف کر دیا تھا لیکن کبھی بھی اپنی خدمات کا تذکرہ کرنا گوارانہ کیا، سچ بات یہ ہے کہ وہ اپنے میدان عمل میں سرگرم رہے اور یہ سب ملت کے لیے ان کی فکرمندی کی وجہ سے تھا۔ اسی بنا پر وہ کئی اداروں سے جڑے ہوئے تھے، جیسے شبلی کالج کی عاملہ کے وہ بڑے مؤقر اور معزز رکن تھے۔

بلریا گنج میں گلشن اطفال کا ذکر کر چکا ہوں ، جس کے بانی تھے اور آخر تک اس کی سر پرستی کرتے رہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی ہند کے قدیم ترین ارکان میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ مختصر یہ کہ ان کی خدمات غیر معمولی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین!

وسیم احمد برولی

ق

وسیم احمد برولی

(ادیب و سوانح نگار)

ملی شخصیات اور تحریکی مخلصین پر سوانحی و تاثراتی مضامین کے مصنف۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←