مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

ڈاکٹر خلیل احمد عمل اور جہد مسلسل کا ایک نام

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:جامعۃ الفلاح، بلریا گنج کے قیام اور تعمیر و ترقی میں جن بے لوث مخلص خادموں کا نام لیا جا سکتا ہے ان میں ایک نمایاں اور ممتاز نام ڈاکٹر خلیل احمد کا ہے۔ وہ بلریا گنج کے ایک بڑے زمین...

جامعۃ الفلاح، بلریا گنج کے قیام اور تعمیر و ترقی میں جن بے لوث مخلص خادموں کا نام لیا جا سکتا ہے ان میں ایک نمایاں اور ممتاز نام ڈاکٹر خلیل احمد کا ہے۔ وہ بلریا گنج کے ایک بڑے زمین دار گھرانے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ چشم و چراغ تھے۔ جوانی کے ابتدائی ایام میں ان کے اندر بڑا کر وفر اور شاہانہ انداز نظر آتا تھا۔ جماعت اسلامی سے جب تعلق ہوا اور اپنے فرائض منصبی کا احساس جاگا تو یہ شاہانہ انداز رخصت ہوا اور زندگی اللہ کے کلمے کی سر بلندی کے لیے وقف ہو گئی۔

اپنے رب کی بندگی اور اس بندگی کو عام کرنے کے لیے انھوں نے اپنے رب سے جو عہد باندھا، اس عہد پر مرتے دم تک قائم رہے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے امت کے لیے وہ ملت کو علمی میدان میں اوپر اٹھانا چاہتے تھے ، اسی لیے انھوں نے تعلیم کے محاذ پر اپنی صلاحیتیں لگائیں ۔ وہ سمجھتے تھے کہ علم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور اسلام کی تو بنیاد ہی علم پر ہے۔ پھر وہ علم کے معاملے میں عصری اور قدیم کی تفریق کے بھی قائل نہیں تھے۔ اسی طرح وہ تربیت و تزکیہ کے بغیر تعلیم کو مفید نہیں مانتے تھے۔

گروہی اور مسلکی تعصبات سے اوپر اٹھ کر عصری علوم کے ساتھ قرآن وسنت کی تعلیم اور ایسے رجال کار کی تیاری جو شہادت حق کے فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ ملت کی کشتی کو ساحل مراد تک پہنچانے کا حوصلہ رکھتے ہیں، جامعۃ الفلاح کا مقصد قیام ہے۔ اس کا منہج تعلیم ، نصاب تعلیم اور اس کے فارغین اس بات کا ثبوت ہیں۔ جامعۃ الفلاح کو یہ رخ ڈاکٹر خلیل احمد صاحب اور ان کے رفقائے کار نے دیا ہے۔ ( رفقائے کار سے میری مراد اُس وقت کی شوری کے افراد اور اُس وقت کے اساتذہ کرام ہیں )

ڈاکٹر صاحب مختلف اوقات میں جامعہ کی نظامت کے علاوہ دوسرے مناصب پر ، بلا معاوضہ، اعزازی طور پر فائز رہے ہیں۔ ان کا یہ پورا دور صاف شفاف ہے۔ جامعہ کے اندر تعلیم کو بہتر بنانے کی جانب ان کی توجہ رہی ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں کا بذات خود جائزہ لیتے، کبھی کبھی کلاسوں میں پہنچ جاتے ۔ اساتذہ سے ان کا تعلق حاکم اور رعایا کا سا نہیں تھا۔ ہر شخص ان تک پہنچ سکتا تھا۔ ایک معمولی طالب علم اور چپراسی کے لیے بھی ان کا دروازہ بند نہیں تھا۔ لوگ اساتذہ اور طلبہ کو اپنا غلام نہیں سمجھتے تھے، اساتذہ کے تقرر میں صلاحیت ، مفاد جامعہ اور مفاد ملت کو ملحوظ رکھتے۔ ان کو جو اساتذہ ملے تھے وہ بھی اپنی مثال آپ تھے۔

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ سیٹھ عبدالمتین صاحب ، شیخ منیر احمد صاحب ایک ٹیم کی طرح ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں ۔ میں ان سب کے ساتھ رہا ہوں ۔ میرے خیال میں ان حضرات کا دور جامعہ کا سنہری دور تھا۔ یہ وہ دور تھا جس میں نظامت کے لیے ایک دوسرے کی ٹانگ نہیں کھینچی جاتی تھی اور ایک دوسرے کی پگڑی نہیں اچھالی جاتی تھی۔

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے جامعہ کا الحاق کرانے میں ڈاکٹر صاحب کا کلیدی کردار ہے۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جامعۃ الفلاح کے اندر تحریک اسلامی اور اس کے مفاد کو اول نمبر پر رکھا ، اس کا نتیجہ ہے کہ زمانہ کی ہزار گردشوں کے باوجود یہ ادارہ آج بھی تحریک کا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر خلیل احمد صاحب نے شبلی کالج اور بعض دوسرے تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی میں بھی حصہ لیا ہے۔ بہ طور خاص شبلی کالج ان کی تو جہات کا مرکز رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے خاندان کی زمین پر ، جس میں بڑا حصہ خود ان کی اپنی زمین کا ہے، یتیم بچوں کے لیے گلشن اطفال کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ، جس کی تعلیم و ترقی اور انتظام و انصرام میں آخر وقت تک لگے رہے۔

بہار کے کشن گنج میں انسان اسکول ایک زمانہ میں بڑی روشن تاریخ رکھتا تھا ، کہتے ہیں کہ اس کے پاس علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بڑھ کر زمینیں تھیں ۔ پورا اسکول جھونپڑیوں کی شکل میں تھا۔ تعلیمی اعتبار سے اس نے بڑی ترقی کی تھی اور برابر کر رہا تھا۔ اس کے ڈائریکٹر جنھوں نے اسے قائم کیا تھا ، غیر معمولی قوت کار (stamina) کے مالک تھے۔ چوبیس گھنٹوں میں دو تین گھنٹوں سے زیادہ آرام نہیں کرتے تھے۔ ان کا سارا وقت تعلیم ، اسکول اور اس کے مسائل کے لیے وقف تھا۔ لگتا تھا کہ یہ ادارہ دوسری علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی بنے گا۔ لیکن اسے امت کی بد نصیبی کہیے کہ یہ اسکول اندرونی خلفشار کا شکار ہو گیا۔ اساتذہ اور ڈائریکٹر کے درمیان شدید رسہ کشی شروع ہوگئی ۔

ڈاکٹر خلیل احمد صاحب اس ساری صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے تھے اور بڑے متفکر تھے، بالآخر انھوں نے وہاں جانے کا ارادہ کر لیا۔ ایک وفد کے ساتھ انسان اسکول پہنچے ۔ وفد میں راقم کے علاوہ ڈاکٹر ابو شحمہ صاحب جو شبلی کالج میں استاد تھے اور اس وقت جامعہ میں معتمد مال ہیں۔ اور مئو کے عبدالرزاق بزمی مرحوم جو دفتر نظامت سے وابستہ اور ایک باکمال شاعر تھے ، شامل تھے۔ کئی دن اس وفد نے وہاں قیام کیا ۔ اساتذہ اور ڈائریکٹر سے بار بار ملاقاتیں کیں ۔ اس موقع پر برادر محترم ڈاکٹر ابو شحمہ صاحب کی صلاحیت کھل کر سامنے آئی ۔ وہ گفتگو کی اچھی صلاحیت اور نزاعی امور کو سلجھانے کا اچھا سلیقہ رکھتے ہیں۔ ان سب نے اپنی پوری قوت صرف کر دی لیکن افسوس ہے کہ ہم لوگ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور ایک ابھرتا ہوا تعلیمی ادارہ باہمی اختلافات اور مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔

ڈاکٹر صاحب کی جماعت سے وابستگی مثالی حد تک تھی ۔ اپنے پوتے خان یاسر کی صلاحیت کا بڑے فخر سے ذکر کرتے تھے۔ خان یاسر کی ایس آئی او اور پھر جماعت کے اندر سرگرمی دیکھ کر بہت خوش ہوتے ۔ مجھ سے ان کی سرگرمیوں کی بابت سوال کرتے اور جواب سن کر محسوس ہوتا کہ ان کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایک بار انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا خان یاسر اپنے کو جماعت کے لیے بلا معاوضہ وقف کر سکتے ہیں؟ میں نے کیا جواب دیا وہ تو یاد نہیں، البتہ انھوں نے کہا تھا کہ اللہ کا دیا ہوا ہم لوگوں کے پاس بہت کچھ ہے، اگر جماعت کو ضرورت ہو تو انہیں تیار رہنا چاہیے۔

ڈاکٹر صاحب ایک باعزت اور خوش حال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے مزاج میں تواضع اور انکسار تھا ۔ کبر اور تعلی سے دور تھے، ملک وملت اور ملی اداروں سے ان کا تعلق دنیا کمانے اور اپنا گھر بنانے کے لیے نہیں تھا۔ وہ اپنا خرچ کر کے دین وملت کی خدمت کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھنے والوں میں تھے۔

ان کے ساتھ میرے متعدد سفر ہوئے ہیں۔ ایک سفر کا ذکر او پر آچکا ہے۔ دہلی ، بنگلور، ہاسن ، میسور کا بھی ساتھ سفر ہوا ۔ ان سفروں میں معتمد مال شیخ منیر احمد صاحب بھی ساتھ رہے ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ وہ کس سادگی سے سفر کر رہے ہیں ، عام سلیپر کلاس میں سفر ، اے سی (A.C) اور فرسٹ کلاس میں نہیں۔ جب کہ وہ اس کی اہلیت رکھتے تھے۔ شیخ منیر احمد صاحب تو ریلوے کے اونچے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ ان کے پاس فرسٹ کلاس میں سفر کے لیے ریلوے پاس (Railway pass) بھی تھا۔ یہ لوگ سفر میں اپنا سامان خود اٹھاتے ، نہ قلی کرتے ، نہ کسی دوسرے کو ہاتھ لگانے دیتے ۔ سفر کے ساتھیوں کے ساتھ بھی ان کا رویہ بہت اچھا ہوتا ۔ مجھے یاد پڑتا ہے ایک سفر میں یہ دونوں میرے ساتھ تھے، مجھ سے عمر میں بڑے عہدے و منصب اور خدمات میں مجھ سے بڑھ کر ، شیخ منیر احمد صاحب سے میرا کسی مسئلے میں اختلاف ہوا ، بحث ہو گئی اور میری آواز ذرا اونچی ہوگئی لیکن ان دونوں بزرگوں نے برا نہیں مانا۔ نہ اس وقت اور نہ بعد میں کبھی اس کا اظہار ہوا۔ انسان کیسا ہے، اس کو پہنچاننے کی ایک شکل یہ ہے کہ انسان اس کے ساتھ سفر کرے، میں نے سفر میں ان بزرگوں کو اپنے سے بہت اونچا پایا۔

ڈاکٹر خلیل احمد صاحب مہمان نواز بھی واقع ہوئے تھے۔ انھیں دوسروں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کر کے بڑی خوشی ہوتی۔ بار ہا راقم نے ان کے ساتھ ناشتہ کیا ہے ، چائے پی ہے ۔ ان ناشتوں میں بڑی بے تکلفی اور اپنائیت ٹپکتی تھی ۔ ڈاکٹر صاحب اور بہ طور خاص شیخ منیر احمد صاحب کے اصرار پر میں نے بلریا گنج بازار کی مسجد کی امامت اور خطابت کی ذمہ داری قبول کی تھی جو ایک عرصہ تک چلتی رہی اور پھر جامعہ کی ضرورت کی وجہ سے اسے چھوڑنا پڑا تھا۔ اپنی ایک پوتی کو عربی پڑھانے کے لیے باصرار ڈاکٹر خلیل احمد صاحب نے خواہش کی اور مجھے ان کی خواہش کا احترام کرنا پڑا ۔ جامعہ کے بعض مسائل کی طرف میں نے انھیں توجہ دلائی اور یہ توجہ دلانا بے کار نہیں ہوا ۔ میرے توجہ دلائے ہوئے بعض امور پر ان بزرگوں نے شوری میں بات اٹھائی اور بعض اچھے فیصلے کرائے۔

جب میں جامعہ سے آخری بار مستقل طور سے رخصت ہو رہا تھا ، جس کا اثر مجھ پر بھی تھا اور دوسرے بہت سے لوگ بھی اس سے متاثر تھے ۔ طلبہ ، اساتذہ ، قصبہ کے لوگ ، نہ جانے کتنی آنکھیں نم تھیں ۔ اس موقع پر ان سے ملنے گیا۔ ان کی آواز گلو گیر تھی اور میری آواز بھی ۔ گھر سے باہر وہ مجھے کچھ دور تک چھوڑنے آئے۔

ڈاکٹر صاحب بڑی پابندی سے ورزش کرتے اور چہل قدمی کرتے ۔ انھوں نے طبیہ کالج علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور کامیاب پریکٹس کرتے تھے۔ بلریا گنج کے ایک غیر مسلم نے مجھے بتایا تھا کہ میرا مرض لا علاج تھا، ڈاکٹروں نے مایوسی ظاہر کر دی تھی لیکن ڈاکٹر خلیل احمد صاحب کی معمولی دوا اور تدبیر کے سہارے میں شفایاب ہو گیا۔

ڈاکٹر صاحب عمر کے آخری حصے میں ہومیو پیتھی کے دلدادہ ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں مولانا شہباز اصلاحی صاحب نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ڈاکٹر خلیل احمد صاحب کی تشخیص بہت اچھی ہوتی ہے۔ البتہ حکیم محمد ایوب کے ہاتھ میں شفا محسوس ہوتی ہے۔

ڈاکٹر خلیل احمد صاحب خطابت کے نہیں عمل کے آدمی تھے ، وہ کام کرنا جانتے تھے۔ پوری زندگی عمل کرتے رہے اور اپنے حصے کا کام پورا کر کے اپنے رب سے جاملے ۔ اللہ غریق رحمت کرے اور ہمیں بھی توفیق دے کہ زندگی کی آخری سانس تک ، اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہیں اور جو وقت بچا ہے، اسے سو کر نہ گزار دیں۔

مولانا محمد اسماعیل فلاحی

ق

ڈاکٹر اسماء فیروز

(شعبہ اردو و اسلامیات)

معاشرتی مسائل، نسوانی حقوق اور اسلامی تہذیب پر تحقیقی مقالہ نگار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←