مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

غزل — صد شکر وہ جفاؤں کے سانچے میں ڈھل گئے

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:صد شکر وہ جفاؤں کے سانچے میں ڈھل گئے

صد شکر وہ جفاؤں کے سانچے میں ڈھل گئے

ہم محوِ خواب ہونے سے پہلے سنبھل گئے

جن کی وفا پہ مجھ کو بہت ناز تھا کبھی

آیا جو وقت وہ بھی نگاہیں بدل گئے

وحشت شبِ فراق سے ہوتی بھی کیا ہمیں

داغِ جگر چراغوں کی مانند جل گئے

پیکر تراشوں کیسے کہ اب نالہ ہائے دِل

لفظوں کے اختیار سے باہر نکل گئے

تھا چاہیے تو یہ کہ بدلتے مزاجِ وقت

یہ کیا کہ ہم بھی وقت کے سانچے میں ڈھل گئے

ق

خبیب کاظمی

(ایڈیٹر، ماہنامہ حیاتِ نو)

ماہنامہ حیاتِ نو کے مدیرِ اعلیٰ، ممتاز صحافی، فلاحی فاضل اور اسلامی فکر و ادب کے متحرک قلم کار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←