ترانہ فلاح
جامعۃ الفلاح بلریا گنج کا تاریخی و ولولہ انگیز ترانہ، منظوم از شبنم سبحانی: ہم ہیں پروانے ترے شمع ضیا بار فلاح، ہے ہمالہ سے بھی اونچا مرا مینار فلاح۔
ادبی نقد، فلاحی شاعری، حمد و نعت اور منظومات
جامعۃ الفلاح بلریا گنج کا تاریخی و ولولہ انگیز ترانہ، منظوم از شبنم سبحانی: ہم ہیں پروانے ترے شمع ضیا بار فلاح، ہے ہمالہ سے بھی اونچا مرا مینار فلاح۔
ہم پہ وہ ستم بعد ستم کرتے رہیں گے، کیا پھر بھی سر ناز کو خم کرتے رہیں گے — شاکر الاکرم بھوپال کی خوبصورت غزل
یار ہیں اس کے طرف داروں کے بیچ، میں اکیلا پڑ گیا یاروں کے بیچ — سالم سلیم کا کلامِ سخن
خوشا نصیب بنا ہے جو نامہ بر کاغذ، حنائی دست نے کر ڈالا معتبر کاغذ — سعید اختر اعظمی کی منفرد غزل
خبیب کاظمی
( مزاحیہ انشائیہ )
ہم سب اپنے باب سے محروم ہوگئے۔
4234 مربع کلو میٹر پر محیط،4.5 ملین سے زائد آبادی پر مشتمل، گھاگھرا اور گومتی ندی کے درمیانی حصہ پر آباد ضلع اعظم گڑھ اردو فکشن کی ثروت مند روایت کا ہمیشہ سے امین رہا ہے۔ ضلع کے جن...
تیرا پیکر سرِ منظر ہے نہ صورت تیری
صد شکر وہ جفاؤں کے سانچے میں ڈھل گئے