خلاصۂ مقالہ:( مزاحیہ انشائیہ )
( مزاحیہ انشائیہ )
زمانہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ کبھی مشاعرے چراغوں ، قالینوں ، اسٹیج اور سامعین سے بھرے ہالوں کی زینت ہوا کرتے تھے۔ پھر مائیک اور لاؤڈ اسپیکر کا دور آیا ، اور اب مشاعرہ اس مقام تک پہنچ گیا ہے کہ شاعر اپنے کمرے میں آرام فرما ہوتا ہے، سامع اپنے بستر یا صوفے پر تشریف رکھتے ہیں، اور دونوں کے درمیان ادب کا رشتہ وائی فائی کے نازک دھاگے سے بندھا ہوتا ہے۔
پہلے شاعر کو مشاعرے کے لیے لباس درست کرنا پڑتا تھا، گھر سے نکلنا پڑتا تھا، سفر کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی تھیں، اب معاملہ یہ ہے کہ اوپر شیروانی ، ٹوپی یا واسکٹ پہن لیجیے اور نیچے آرام دہ لباس کے ساتھ پوری شان سے اسکرین پر جلوہ گر ہو جائیے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ ابھی ٹیکنالوجی اتنی ترقی نہیں کر سکی کہ سامع شاعر کو مکمل 360 ڈگری زاویے سے دیکھ سکے ، ورنہ کئی گھریلو راز بھی ادب کے ذخیرے میں شامل ہو جاتے ۔
آن لائن مشاعرہ جدید دور کا وہ عجوبہ ہے جس میں ہر شخص اپنی پسندیدہ کیفیت میں ادب کی خدمت انجام دیتا ہے۔ کوئی کرسی پر باقاعدہ بیٹھا ہے ، کوئی صوفے پر نیم دراز ہے، اور کچھ حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے چہرے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ مشاعرے اور نیند کے درمیان کسی نازک سرحد پر سفر کر رہے ہیں۔
بعض اوقات کیمرہ بھی اپنی الگ داستان سناتا ہے۔ کبھی شاعر کا چہرہ اتنا قریب ہوتا ہے کہ محسوس ہوتا ہے غزل نہیں بلکہ شناختی کارڈ کا نیا ایڈیشن پیش کیا جا رہا ہے، اور کبھی منظر ایسا ہوتا ہے کہ سامع شعر سننے کے بجائے پس منظر میں رکھی الماری، پردے اور دیوار کی آرائش پر تحقیق شروع کر دیتا ہے۔
پھر بعض اوقات شاعر کے پیچھے گھر کا ماحول بھی مشاعرے کا حصہ بن جاتا ہے۔ کسی کمرے سے آواز آتی ہے: “چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے!” اور شاعر ایک لمحے کے لیے بحر سخن سے نکل کر بحرِ خانہ داری میں داخل ہو جاتا ہے۔
شاعر کلام شروع کرتا ہے تو پہلی داد اکثر سامعین سے پہلے گھر والوں کی طرف سے آتی ہے۔ ابھی مطلع مکمل بھی نہیں ہوا ہوتا کہ آواز آتی ہے : ” واہ ! کیا خوب !” اب یہ داد شعر کے لیے ہے یا گھر کے فرد کی حوصلہ افزائی کے لیے، یہ راز اکثر پردہ غیب میں رہتا ہے۔
آن لائن مشاعرے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں سامع صرف شعر نہیں سنتا بلکہ دوسروں کی روزمرہ زندگی کا مشاہدہ بھی کرتا رہتا ہے۔ کوئی چائے پی رہا ہے، کوئی بسکٹ کھا رہا ہے، اور کوئی کھانے کی پلیٹ سامنے رکھے ادب کی آبیاری کر رہا ہے۔
بعض حضرات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشاعرہ اور کھانے کی مجلس نے باقاعدہ اتحاد کر لیا ہے ، شعر بھی جاری ہے اور رزق کی تقسیم بھی ۔
آن لائن مشاعرے کے ناظم محفل کی کیفیت بھی کسی کمانڈر سے کم نہیں ہوتی۔ اسکرین پر پھیلے ہوئے ہیں پچیس خانوں میں نظریں دوڑاتے ہوئے وہ بیک وقت شاعر کو دعوت بھی دے رہا ہوتا ہے، کسی کا مائیک بند کر رہا ہوتا ہے، کسی کو یاد دلا رہا ہوتا ہے کہ جناب! آپ کی آواز ابھی تک دنیا تک نہیں پہنچی ، اور کسی کو یہ سمجھا رہا ہوتا ہے کہ آپ کا کیمرہ آپ کے بجائے چھت کو دکھا رہا ہے۔
کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناظم مشاعرہ نہیں بلکہ کسی فضائی مرکز کا کنٹرول روم چلا رہا ہے، جہاں شاعروں کی پروازیں مسلسل اڑان بھر رہی ہیں اور سگنل کے مطابق لینڈ بھی کر رہی ہیں ۔
صدر محفل کی داستان بھی اپنی جگہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ روایتی مشاعرے میں صدر محفل کی سب سے بڑی خوبی یہ نہیں ہوتی کہ وہ بڑا شاعر ، خطیب یا دانش ور ہو، بلکہ کبھی کبھی اصل کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر تک اپنی نشست پر قائم رہنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
شاعر اپنا کلام سنا کر سبک دوش ہو جاتا ہے، سامعین کبھی چائے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں
اور کبھی موبائل کی طرف ، مگر صدر محترم؟ وہ ابتدا سے انتہا تک ایسے موجود رہتے ہیں جیسے زوم کی پوری محفل کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہو اور اختتام کا بٹن بھی انہی کے پاس ہو۔
آن لائن مشاعرے میں صدر محفل کی آزمائش کچھ زیادہ ہی دلچسپ ہو جاتی ہے۔ ایک طرف انہیں شعر سننا ہوتا ہے، دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اسکرین پر کتنے لوگ ابھی تک موجود ہیں۔ کیونکہ آن لائن دنیا میں بعض اوقات سامع کی غیر موجودگی بھی بڑی خاموش ہوتی ہے ، نہ دروازہ کھلنے کی آواز آتی ہے، نہ قدموں کی چاپ ، بس ایک دم ایک خانہ خالی ہو جاتا ہے۔
مشاعرہ اختتام کے قریب پہنچتا ہے تو صدر محترم کے کان آہستہ سے عرض کرتے ہیں : “حضور! ہم نے بھی ادب کی کافی خدمت کر لی ہے، اب کچھ آرام کا موقع عطا فرمایا جائے ۔” مگر منصب کا تقاضا یہ ہے کہ چہرے پر وہی تازگی برقرار رہے، جیسے ابھی ابھی محفل شروع ہوئی ہو۔
صدر محفل کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ بیک وقت شاعر کو داد بھی دے محفل کی رونق بھی قائم رکھے اور اپنی تھکن کو بھی مسکراہٹ کے پردے میں چھپالے۔
آن لائن مشاعرے کی چند مشکلات بھی اپنی جگہ ہیں۔ بعض سامعین کیمرہ بند کر کے ایسی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں کہ آخر تک معلوم نہیں ہو پاتا کہ وہ شعر سن رہے ہیں، سو رہے ہیں یا کسی اور مصروفیت میں مشغول ہیں۔
کچھ حضرات تو اختتام کے قریب اچانک نمودار ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں: ” بہت عمدہ نشست تھی !” حالانکہ دل میں سوال اٹھتا ہے کہ عمدگی مشاعرے کی تھی یا آرام دہ نشست کی؟
کچھ سامعین ایسے بھی ہوتے ہیں جو پورے مشاعرے میں خاموش رہتے ہیں، نہ داد، نہ تبصرہ ، نہ کوئی رد عمل ۔ آخر میں صرف ایک پیغام بھیجتے ہیں : ” بہت خوب!”
اب یہ “بہت خوب” کس شعر کے لیے ہے، کس شاعر کے لیے ہے یا صرف اپنی موجودگی کا ثبوت دینے کے لیے، اس کا فیصلہ کرنا بھی ایک ادبی تحقیق کا موضوع بن سکتا ہے۔
ان تمام دلچسپ پہلوؤں کے باوجود آن لائن مشاعرہ ایک بڑی نعمت بھی ثابت ہوا ہے۔ اس نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں۔ اب دوحہ، دہلی، لکھنو ، کراچی، لندن، ٹورنٹو اور جدہ کے اہلِ ذوق ایک ہی وقت میں ایک ہی محفل میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ نہ سفر کی مشقت، نہ ہوٹل کی بکنگ ، نہ ہال کا کرایہ، نہ استقبالیہ کمیٹی کی فکر ، بس ایک لنک جاری ہوا اور دنیا بھر کے شعر دوست ایک ہی بزم میں جمع ہو گئے۔
یہی وجہ ہے کہ آن لائن مشاعرہ اب صرف مجبوری نہیں ، ادب کی ایک نئی سہولت بھی بن چکا ہے۔ اس نے شاعری کو شہروں اور سرحدوں کی قید سے نکال کر عالمی مجلس عطا کر دی ہے۔
البتہ ہر نعمت کے ساتھ کچھ آزمائشیں بھی ہوتی ہیں۔ پہلے شاعر مشاعرے میں دیر سے پہنچتا تھا ، اب کبھی کبھی انٹرنیٹ کو شاعر تک پہنچنے میں دیر ہو جاتی ہے۔
پہلے ناظم اعلان کرتا تھا : ” شاعر محترم اسٹیج پر تشریف لائیں ۔” اب کہتا ہے : ” جناب! آپ سے گزارش ہے کہ آپ اسکرین پر تشریف لائیں اور اپنا مائیک آن کر لیجیے”
پہلے داد دینے کے لیے ہاتھ اٹھتے تھے، اب صرف انگوٹھا کافی ہے۔ عجیب زمانہ آگیا ہے، جو انگوٹھا کبھی ” انگوٹھا ٹیک” ہونے کی علامت سمجھا جاتا تھا ، وہی اب کسی کی قابلیت پر مہر تصدیق بن کر آتا ہے۔
پہلے مشاعرے کے بعد شاعر سے مصافحہ ہوتا تھا، اب Leave Meeting پر کلک ہوتے ہی گھنٹوں کی ادبی رفاقت بھی چند سیکنڈ میں ختم ہو جاتی ہے۔
بعض حضرات کی انٹرنیٹ اسپیڈ بھی شاعری کی بحر کی طرح ہوتی ہے، کبھی رواں ، کبھی ٹوٹی ہوئی۔ آدھا شعر سنائی دیتا ہے، باقی سامع اپنے ذوق سے مکمل کر لیتا ہے۔
اور اگر کسی شاعر کا سگنل عین شعر کے مقطع پر رک جائے تو سامعین کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے
غزل بھی سسپنس ناول بن گئی ہو۔
بہر حال، ادب زندہ ہے، شعر زندہ ہے اور مشاعرہ بھی زندہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے شاعر اسٹیج پر نمودار ہوتا تھا، اب اسکرین پر ۔ پہلے داد ہال میں گونجتی تھی ، اب ایموجیز کی صورت میں برستی ہے۔ پہلے محفل بجلی پر چلتی تھی ، اب بجلی کے ساتھ وائی فائی ، مائیک، کیمرہ اور Unmute کے رحم و کرم پر بھی۔
خدا کرے شاعر کا تخیل ، سامع کا ذوق ، صدر محفل کا صبر، ناظم کی برداشت اور انٹرنیٹ کا سگنل ہمیشہ مضبوط رہے؛ کیونکہ آج کل ان پانچوں میں سے کسی ایک نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تو پورا مشاعرہ غزل سے زیادہ غائب ہونے والوں کی حاضری لینے میں گزر جاتا ہے۔
ابن ابو بطن کا کہنا ہے کہ آن لائن مشاعرے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اگر شعر پسند نہ آئے تو سامع خاموشی سے کیمرہ بند کر سکتا ہے، اور شاعر آخر تک یہی سمجھتا رہتا ہے کہ سامع پوری توجہ سے اس کی غزل سن رہا ہے۔
ابن ابو بٹن
موضوعات:#اردو ادب و شاعری