ترانہ فلاح
جامعۃ الفلاح بلریا گنج کا تاریخی و ولولہ انگیز ترانہ، منظوم از شبنم سبحانی: ہم ہیں پروانے ترے شمع ضیا بار فلاح، ہے ہمالہ سے بھی اونچا مرا مینار فلاح۔
حمد و نعت، نظمیں، غزلیں اور فلاحی منظومات
جامعۃ الفلاح بلریا گنج کا تاریخی و ولولہ انگیز ترانہ، منظوم از شبنم سبحانی: ہم ہیں پروانے ترے شمع ضیا بار فلاح، ہے ہمالہ سے بھی اونچا مرا مینار فلاح۔
ہم پہ وہ ستم بعد ستم کرتے رہیں گے، کیا پھر بھی سر ناز کو خم کرتے رہیں گے — شاکر الاکرم بھوپال کی خوبصورت غزل
یار ہیں اس کے طرف داروں کے بیچ، میں اکیلا پڑ گیا یاروں کے بیچ — سالم سلیم کا کلامِ سخن
خوشا نصیب بنا ہے جو نامہ بر کاغذ، حنائی دست نے کر ڈالا معتبر کاغذ — سعید اختر اعظمی کی منفرد غزل
خبیب کاظمی
( مزاحیہ انشائیہ )