خلاصۂ مقالہ:یار ہیں اس کے طرف داروں کے بیچ، میں اکیلا پڑ گیا یاروں کے بیچ — سالم سلیم کا کلامِ سخن
غزل
یار ہیں اس کے طرف داروں کے بیچ
میں اکیلا پڑ گیا یاروں کے بیچ
تیری زلفوں سے رہا ہونے کے بعد
ہم بہت بھٹکے ہیں رخساروں کے بیچ
موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
میں ہی بس اچھا ہوں بیماروں کے بیچ
اے خدا تو ہی بتا آخر میں کیوں
گھومتا جاتا ہوں سیاروں کے بیچ
گھر سے خوش قامت وہ نکلا ہی نہیں
اور قیامت سی ہے بازاروں کے بیچ
گھر بنانے میں کٹی ہے زندگی
لگ چکے ہیں ہم بھی دیواروں کے بیچ
ہر طرف اللہ اکبر کا ہے شور
گھر گئی ہے خامشی نعروں کے بیچ
سالم سلیم
موضوعات:#اردو ادب و شاعری