مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

ایثار انصار ایمان کی ایک درخشاں تصویر

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:چشم فلک اور گردشِ لیل و نہار نے نہ تو کبھی نبوی معاشرے کی طرح کوئی معاشرہ دیکھا ہوگا، اور نہ ہی آفتاب و ماہتاب نے اس جیسے بے نظیر و بے مثال معاشرے پر ضیا پاشی کی ہو گی ۔ وہ نبوی مع...

چشم فلک اور گردشِ لیل و نہار نے نہ تو کبھی نبوی معاشرے کی طرح کوئی معاشرہ دیکھا ہوگا، اور نہ ہی آفتاب و ماہتاب نے اس جیسے بے نظیر و بے مثال معاشرے پر ضیا پاشی کی ہو گی ۔ وہ نبوی معاشرہ جو آج کے فاسد و مادیت زدہ سماج میں کسی خواب کی طرح نظر آتا ہے، اگر قرآن مجید، سیرت نبویہ اور کتب تاریخ نے اس کے نقوش کو محفوظ نہ رکھا ہوتا تو شاید ہم اسے بھی افسانہ عنقا ہی سمجھتے ۔

قرآن مجید میں اس مثالی معاشرے کی روشن جھلکیاں جابجا بکھری ہوئی ہیں، جن میں سے ایک نہایت حسین تصویر سورہ حشر کی آیت ۹ اور ۱۰ میں انصار صحابہ کرام کے مہاجرین کے ساتھ بے مثال تعلقات کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انصار کی چند عظیم صفات کا ذکر فرمایا: محبت ، دلوں کی پاکیزگی، تنگ دستی کے باوجود ایثار، اور سابقین ایمان کے لیے دعا۔

ذرا چشم تصور میں مہاجر صحابہ کی مدینہ آمد کا منظر لائیے کہ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اپنا گھر، مال ، وطن اور اہل و عیال چھوڑ کر ایک نئی بستی میں آرہے ہیں، اور دوسری طرف انصار ہیں جو بغیر کسی سابقہ تعلق اور تعارف کے کھلے دل سے ان کا استقبال کر رہے ہیں۔ وہ ان کے سامان اٹھاتے ہیں، اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں، ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور محبت و اخلاص کے ساتھ انہیں اپنا بھائی بنا لیتے ہیں۔ یہ محبت کسی دنیاوی منفعت یا مادی غرض پر مبنی نہ تھی، بلکہ ایمان کی وہ قوت تھی جس نے دلوں کو اس طرح جوڑ دیا کہ پوری تاریخ انسانی میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ آج کے دور میں جہاں تعلقات اکثر مفادات کے گرد گھومتے ہیں، انصار کی یہ بے لوث محبت ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے۔

انصار کی دوسری نمایاں صفت ان کے دلوں کی پاکیزگی تھی۔ وہ کینہ، حسد اور بغض سے بالکل خالی تھے۔ بنو نضیر کے اموال فئے جب اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے لیے خاص فرمائے تو انصار کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ملال پیدا نہ ہوا ۔ انہوں نے نہ شکوہ کیا ، نہ کسی محرومی کا احساس ظاہر کیا، بلکہ اخلاص اور رضا کے ساتھ اس فیصلے کو قبول کیا۔ منافقین مدینہ نے بارہا کوشش کی کہ انصار و مہاجرین کے درمیان اختلاف پیدا کیا جائے لیکن وہ ان پاکیزہ دلوں میں نفرت کا بیج نہ بو سکے۔ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر عبداللہ بن ابی نے انصار و مہاجرین کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی ، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت و تدبیر سے یہ فتنہ بھی ختم ہو گیا۔

انصار کی تیسری عظیم صفت ان کا جذبہ ایثار ہے۔ ایثار کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت اور تنگ دستی کے باوجود دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دے۔ خوش حالی میں کسی کے لیے کچھ کر دینا آسان ہے، لیکن اپنی ضرورت کے وقت کسی دوسرے کی ضرورت کو مقدم کرنا اخلاق کی بلند ترین منزل ہے۔

مواخات مدینہ کے بعد انصار صحابہؓ نے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنے گھروں میں جگہ دی، اپنے مال میں شریک کیا، اپنے باغات اور کھیت پیش کیے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندانی معاملات تک میں ایثار کا مظاہرہ کیا۔ یہ واقعات انسانی تاریخ میں ایثار اور قربانی کی بے مثال مثالیں ہیں۔ ایثار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نفس کی تنگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو اپنے نفس کی تنگی سے محفوظ رکھے گئے ، وہی کامیاب ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ خیر اور بھلائی کے تمام کام اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب دل کشادہ ہو، انسان دینے کا حوصلہ رکھتا ہو اور اللہ کی راہ میں اپنی صلاحیتوں ، مال اور وقت کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو۔

آیت کے آخری حصے میں اس تیسرے گروہ کا ذکر ہے جو مہاجرین و انصار کے بعد آیا۔ اس میں تابعین اور قیامت تک آنے والے وہ اہل ایمان شامل ہیں جو صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلیں گے۔ ان کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے دلوں کو حسد، بغض اور کدورت سے پاک رکھتے ہیں، اپنے لیے بھی مغفرت مانگتے ہیں اور اپنے سے پہلے گزرنے والے اہل ایمان کے لیے بھی دعا کرتے ہیں۔

یہ آیات در اصل امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم دستور ہیں کہ اس کے افراد کے درمیان زمان و مکان نسل اور وطن کی حدود سے بالاتر ایمانی رشتہ قائم رہے۔ پہلی نسلوں کی قربانیاں بعد والی نسلوں کا سرمایہ اور میراث بنیں، اور ہر مومن اپنے پیش رو اہل ایمان کے لیے محبت و خیر خواہی کا جذبہ رکھے۔

یہ پاکیزہ تصویر اس ذہنیت سے ، بالکل مختلف ہے جو نفرت ، طبقاتی دشمنی اور باہمی تصادم کو فروغ دیتی ہے۔ ایمان کی بنیاد پر قائم اخوت انسانیت کو بلندی عطا کرتی ہے، جبکہ بغض و حسد انسان کو پستیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔

انصار کی یہ تابندہ مثال ہمیشہ ہمارے سامنے رہے کہ ایمان کی راہ میں اصل سرمایہ کشادہ دلی، ایثار، محبت اور دلوں کی پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان پاکیزہ صفات سے آراستہ فرمائے، نفس کی تنگی سے بچائے ، اور دین کی خدمت کے لیے اخلاص و قربانی کا جذبہ عطا فرمائے ۔

ابو عبادہ عظیم فلاحی

ق

ابو عبادہ عظیم فلاحی

(مربی و محقق اسلامیات)

صحابہ کرامؓ کی سیرت اور قرآنی دعوت کے موضوع پر مستقل قلم کار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←