موت سب سے بڑی سچائی ہے اور سب سے تلخ حقیقت ۔ یہ دنیا دار القضا ہے۔ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بھی دنیا کو اسی طرح چھوڑ کر چلے گئے جس طرح ہر انسان کو جانا ہے۔ اس عالم فانی میں جو بھی آتا ہے، جانے ہی کے لیے آتا ہے اور ہر جانے والا اپنے پیچھے اپنے اعزہ واقارب اور متعلقین کو سوگوار چھوڑ جاتا ہے۔ لیکن کچھ جانے والے ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے سے صرف رشتے ناطے ( رشتہ دار ) ہی مغموم نہیں ہوتے بلکہ اطراف واکناف کے علاقے بھی ماتم کدہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی جانے والوں میں ایک مرحوم ڈاکٹر خلیل احمد صاحب بھی تھے ، جو اپنی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے عرصہ دراز تک یاد رکھے جائیں گے۔
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
اللہ تعالیٰ ہر انسان کو مختلف خوبیوں سے نوازتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی محنت و ذہانت کے سبب اس وقت جب کہ پڑھنے لکھنے کا نام و رواج نہ تھا، اطراف میں پڑھے لکھے لوگ خال خال ہی نظر آتے تھے، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا رخ کیا اور وہاں سے طب کی ڈگری سے سرفراز ہو کر لوٹے اور علاقے میں ایک ماہر طبیب کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی لیکن ان کے فکر ومزاج کی جولانی نے ، جو کہ فرزندان ملت کی تعلیم و ترقی کے تعلق سے فطرت میں رچی بسی تھی ، انھیں چین سے بیٹھنے نہ دیا، جس کا اشارہ وہ اپنی گفتگو میں کیا کرتے تھے۔ اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لیے فلاح کی سرزمین میسر آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے عزائم کی تکمیل کا موقع عطا فرمایا۔
خواب کیا تھا؟ ان کی خواہشات کیا تھیں ؟ ملت کے نوجوان زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہو جائیں ، ان کی تعلیمی پس ماندگی اور زبوں حالی دور ہو جائے۔ جامعۃ الفلاح قدیم وجدید تعلیم کا مرکز بن جائے ۔ ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جائے جو جدید و قدیم کا بہترین امتزاج ہو۔
ایک خواب، وہ خواب جو انھوں نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا تھا، نصرت الہی سے اس کی تکمیل کا وقت قریب آگیا تھا۔ اپنی مصروف ترین اور بہترین پریکٹس سے انھوں نے وقت فارغ کر کے، جامعہ کے لیے وقت لگانا شروع کر دیا اور اپنے چند ہم نواؤں کے ساتھ لائحہ عمل تیار کرنا شروع کر دیا۔ جامعہ جو اس وقت ایک ننھا سا پودا تھا۔ دھیرے دھیرے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرتا چلا گیا جس کی جڑیں آج زمین کی گہرائی میں پیوست ہیں۔ درمیان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ موصوف نے اپنی جمی جمائی پریکٹس کو خیر باد کہہ دیا ، جب کہ وہ ابھی بہترین صحت کے مالک تھے، اور جامعہ کے لیے اپنے آپ کو مکمل طور سے وقف کر دیا۔ آج کا جامعہ ان ہی بزرگوں کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، یہ ان کی اور ان جیسے مخلصوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے تعلیمی میدان میں غیر معمولی نقش ثبت کیے، جامعۃ الفلاح کو نئی بلندیاں فراہم کیں۔ مختلف یونی ورسٹیوں سے الحاق کا سلسلہ آپ ہی کے ہاتھوں شروع ہوا۔ اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے سب سے پہلے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے الحاق کرایا۔ جامعہ کے علاوہ آپ کی کوششوں سے ایک یتیم خانہ ( گلشن اطفال) کا قیام عمل میں آیا۔ ایک قطعہ زمین اس کے لیے وقف کیا جس میں ایک مسجد کی تعمیر بھی شامل ہے۔ اپنے گھر کے قریب ایک دوسری مسجد (مسجد عمر کے نام سے ) تعمیر کرائی جس میں طلبہ اور نوجوانوں کے استفادہ کے لیے ایک مختصر لائبریری بھی قائم کی ۔ محلے کے بچوں کو پڑھانے اور ان کے اندر علمی شوق پیدا کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے۔ آپ شبلی کالج کی انتظامیہ کے ممبر رہے اور مجلس شوری کو مفید مشوروں سے نوازتے رہے۔ وہاں ایسے مواقع بھی آئے کہ اپنے بیٹوں اور اعزہ کا تقرر کروا سکتے تھے لیکن انھوں نے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا اور ذمہ داران کی شرائط کو نہایت سختی کے ساتھ ٹھکرا دیا اور مستر د کر دیا۔
ڈاکٹر صاحب تحریک کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، ایام صحت میں تمام اجتماعات میں شرکت کرتے۔ بیت المال کی اعانت کے علاوہ تحریک کے مادی استحکام کے لیے ہمہ وقت پیش پیش ہوتے ۔
ڈاکٹر صاحب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ وہ رشتوں کا بہت زیادہ پاس ولحاظ رکھتے تھے اور ان کی ضروریات کی تکمیل بھی کیا کرتے تھے ۔ ڈاکٹر صاحب ایک شجر سایہ دار کے مثل تھے۔ ان کی شخصیت کے سایہ سے بہت سارے لوگ مستفیض ہوا کرتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کا میرے گھر بہت آنا جانا ہوتا تھا، چوں کہ میں ان کے گاؤں سے ہی تعلق رکھتا ہوں۔ میرے عزیز تھے اور بہت گہرا رشتہ تھا اور اس رشتے کو پائیداری بھی موصوف ہی نے بخشی۔ موصوف میرے ہم زلف ہوتے تھے، گو کہ عمر میں بہت زیادہ تفاوت تھا، قریب ۲۵-۳۰ سال کا فرق ۔ میں ان کے بڑے بیٹے کا ہم عمر تھا۔ اکثر و بیشتر بعد نماز فجر ہمارے گھر تشریف لاتے ، ہماری خیریت معلوم کرتے ، ہماری تربیت کا سامان کرتے ، پڑھنے کے لیے کتا بیں دیتے، تعلیم و تعلم کے موضوع پر گفتگو کرتے ۔ چوں کہ میں بھی جامعۃ الفلاح سے منسلک تھا اس لیے وہاں کی تعلیم و تربیت اور تعمیر و ترقی موضوع سخن ہوتی ۔
آج سے چالیس سال قبل کی بات ہے۔ نماز فجر کے فوراً بعد ہمارے غریب خانہ پر تشریف لائے۔ میں خواب غفلت سے بیدار ہوا، شرمندہ شرمندہ سا اٹھا۔ آپ نے نہایت شفقت کے ساتھ چند نصیحتیں کیں، جو میں نے گرہ میں باندھ لیں ۔ وہ دن اور آج کا دن اللہ تعالیٰ موصوف کو جزائے خیر عطا فرمائے ، میری فجر کی جماعت فوت نہیں ہوئی۔
میں ان کے گھر کے ایک فرد کی حیثیت رکھتا تھا۔ ان کے اکثر بیٹے کم و بیش میرے ہم عمر تھے۔ میرا بیش تر وقت ادھر ہی گزرتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے پچاس سال پہلے اپنے بیٹوں ، بیٹیوں اور بعد میں بہوؤں کے، ایک ایک دروازے پر دستک دیتے اور نماز فجر کے لیے جگاتے۔
موصوف بعد نماز عشاء سونے کے عادی تھے۔ سویرے سونا اور سویرے اٹھنا ان کا روزمرہ کا اُصول تھا۔ نماز فجر سے بہت پہلے بیدار ہو جاتے اور اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتے اور آہ سحر گاہی کے واسطے سے رب کی رضا کے طالب ہوتے ۔ آخری ایام میں تو تعلق باللہ بہت مضبوط ہو گیا تھا۔
یہ ذکر بھی کچھ بے جانہ ہوگا کہ ڈاکٹر صاحب کی پرورش بڑے ناز و نعم سے ہوئی ۔ والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ والدہ محترمہ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا تھا۔ والد محترم ہی اب ماں اور باپ دونوں تھے، ان پر جان چھڑکتے ، دھوپ چھاؤں اور موسمی اثرات سے بچاؤ کی تدبیر و تلقین کرتے۔
نہایت محبت و شفقت سے پرورش ہوئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لاڈ پیار سے بگڑ جاتے لیکن والد صاحب کی تربیت اور ڈاکٹر صاحب کی صالحیت نے ایسا کچھ نہ ہونے دیا۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ والد محترم دن میں کئی کئی بار ڈاکٹر صاحب کے مطب کا چکر لگاتے ، محبت اور شفقت سے ان کو دیکھتے اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے اور بغیر کچھ کہے سنے واپس آ جاتے۔
ڈاکٹر صاحب بھی اپنے والد محترم پر جان چھڑکتے تھے۔ میری ان آنکھوں نے وہ منظر بھی دیکھا کہ والد صاحب بستر علالت پر ہیں، آخری وقت ہے، جاں کنی کا عالم ہے، والد ماجد کا سر گود میں ہے، ڈاکٹر صاحب زار و قطار رو رہے ہیں اور بآواز بلند کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے ہیں۔ اسی حالت میں روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
میں نے وہ منظر بھی دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب کے فرزندان پروانہ وار ڈاکٹر صاحب کی ایک ایک ادا پر نثار ہو رہے ہیں، ان کے کسی بھی اشارے کے منتظر ہیں۔ اُن کے چھوٹے بیٹے عبید الرحمن نے تو بطور خاص اپنے آپ کو ابا جان کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ گھر کی نشست و برخاست ہو کہ مسجد کی آمد و رفت یا خوردو نوش کا موقع ، ہر وقت سائے کی طرح ان کے ساتھ لگے رہتے تھے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو، یہ چیزیں تو وراثت میں ملی تھیں۔ کیا خوب حق ادا کیا خدمت والدین کا ، ان کے بچوں نے ، قابل رشک اور قابل ستائش !
آخری وقت میں بچے کچھ ملول تھے کہ ہم سے کوتاہی ہوئی ، آخری دن ہم ابا کا کچھ خیال نہ رکھ سکے ۔ ہوا یوں کہ سب کچھ معمول کے مطابق رہا۔ بعد عشاء مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا پھر بستر پر دراز ہو گئے ۔ ایک بیٹے انیس الرحمن ان کے بازو میں سوئے ہوئے تھے۔ کچھ دیر کے بعد اُن کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد ان کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ابا کھڑے کھڑکی سے باہر جھانک رہے ہیں، کہا کہ ابا سو جائیے ، ابھی بہت رات باقی ہے۔ بستر پر سلایا۔ پھر کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ابا جان بستر پر بیٹھے ہیں، کہا کہ ابا سو جائیے ، ابھی سویرا نہیں ہوا ہے۔ ابا کو سلا کر خود بھی سو رہے۔ کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی ، گیارہ بجے تھے، دیکھا کہ ابا کچھ بے ترتیب سے بستر پر سورہے ہیں۔ گھبرا کر اٹھے تو دیکھا ( محسوس کیا ) کہ ڈاکٹر صاحب جان ، جان آفریں کے سپرد کر گئے ہیں۔ دوسرے بھائیوں کو آواز دی، سب بھاگے آئے ۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا، لیکن ڈاکٹر صاحب تو سفر آخرت پہ جا چکے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی کو کچھ زحمت دیے بغیر کسی کی خدمت لیے بغیر، بغیر کچھ کہے، چپکے سے اپنا آخری سفر طے کر لیا۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اس سفر میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیا کرتا۔
موت کا تو ایک وقت متعین ہے۔ ٹھیک اپنے وقت سے آتی ہے۔ نہ کسی کے مانگے ملتی ہے اور نہ کسی کے ٹالے ملتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچوں، بچیوں حتی کہ پوتوں اور پوتیوں کی بہترین تعلیم و تربیت کا حق ادا کر دیا۔ انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کے بچوں نے بھی خدمت والدین کی اہمیت کو سمجھا اور جانا ۔ اس پہلو سے انھیں ملول اور دل گرفتہ نہ ہونا چاہیے کہ کما حقہ ان کی خدمت نہ کر سکے۔ والدین کا ایک حق جو باقی رہ جاتا ہے، اُس کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے، اپنی مقدرت بھر ان کے لیے دعائے خیر کرنا چاہیے اور جو فکر انھوں نے چھوڑی ہے اس کے لیے ہمہ وقت فکر مند رہنا چاہیے۔
ایک ابھری ہوئی خوبی ڈاکٹر صاحب کی یہ بھی تھی کہ وہ بہت ہی سادہ دل، سادہ طبیعت اور سادہ مزاج تھے۔ تکلف تصنع اور ظاہرداری سے کوسوں دور تھے۔ ہر ایک سے اس کے شایان شان برتاؤ کرتے ۔ اُس سے اسی طرح ملتے جیسے ملنا چاہیے۔ مرحوم بڑے مہمان نواز تھے۔ گھر آئے مہمان کی خوب خوب خاطر تواضع کرتے ۔ عمر کے ساتھ ساتھ ان تمام خوبیوں میں مزید نکھار پیدا ہو گیا تھا۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ موصوف کی حسنات کو قبول فرمائے ، کوتاہیوں سے صرف نظر فرمائے اور ان کے وارثین میں سے ان کا نعم البدل عطا فرمائے نیز تمام متعلقین کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔
ماسٹر شاہ نواز