مواد کی طرف جائیں (Skip to main content)
علمی، فکری، تحقیقی و دعوتی ترجمان — قائم شدہ: 1978ء
تازہ شمارہ: جولائی تا ستمبر 2026ء

سوشل میڈیا، لبرل ازم اور مسلم ذہن پر نئی تہذیبی یلغار

حجمِ خط:
رسم الخط:
خلاصۂ مقالہ:اکیسویں صدی میں تہذیبی کشمکش نے اپنی ہیئت بدل لی ہے۔ ماضی میں اقوام کی شکست و فتح کا فیصلہ عسکری طاقت، سیاسی غلبے اور معاشی استحصال کے ذریعے کیا جاتا تھا، لیکن موجودہ دور میں ذہن، ...

اکیسویں صدی میں تہذیبی کشمکش نے اپنی ہیئت بدل لی ہے۔ ماضی میں اقوام کی شکست و فتح کا فیصلہ عسکری طاقت، سیاسی غلبے اور معاشی استحصال کے ذریعے کیا جاتا تھا، لیکن موجودہ دور میں ذہن، فکر اور شعور کو فتح کرنا اصل ہدف بن چکا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا، نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے جہاں معلومات، نظریات، اقدار اور طرزِ زندگی لمحوں میں سرحدیں عبور کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تہذیبی یلغار کی سب سے مؤثر صورت فکری اور ثقافتی یلغار ہے۔

انسانی تاریخ محض جنگوں، سلطنتوں اور سیاسی انقلابات کی تاریخ نہیں بلکہ افکار، اقدار اور تہذیبوں کے تصادم کی بھی تاریخ ہے۔ جب بھی کوئی تہذیب اپنے فکری نظام، اخلاقی تصورات اور سماجی اقدار کے ذریعے دوسری تہذیب پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے تو اس عمل کو تہذیبی یلغار سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس یلغار کی صورتیں مختلف رہی ہیں۔ کبھی تلواریں، توپیں اور فوجیں اس کا ذریعہ بنتی تھیں، کبھی نوآبادیاتی اقتدار، تعلیمی ادارے اور معاشی نظام اس مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے، لیکن عصرِ حاضر میں یہ عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ذہنوں کی تشکیل اسکرینوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے ابلاغ کی دنیا میں ایسی غیر معمولی تبدیلی پیدا کی ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آج ایک فرد اپنی جیب میں موجود موبائل فون کے ذریعے دنیا بھر کے افکار، ثقافتوں، نظریات اور طرزِ زندگی سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔ اس مسلسل رابطے نے جہاں علم کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں ذہنی انتشار، تہذیبی اختلاط اور فکری دباؤ کی نئی صورتیں بھی جنم دی ہیں۔

سوشل میڈیا، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارم صرف معلومات کی ترسیل کے ذرائع نہیں رہے بلکہ وہ انسانی ترجیحات، سماجی رویوں، سیاسی رجحانات اور اخلاقی تصورات کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے الگورتھمز صارف کی دلچسپی، کمزوری، نفسیاتی رجحان اور طرزِ عمل کو مسلسل جانچتے ہیں اور پھر اسی کے مطابق ایسا مواد پیش کرتے ہیں جو اس کے ذہنی سانچے کو مزید مستحکم یا تبدیل کر سکے۔ اس طرح بظاہر آزاد انتخاب کے پس منظر میں ایک خاموش فکری رہنمائی (Silent Guidance) جاری رہتی ہے۔ مسلم معاشروں کے لیے یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ اہم ہے کہ اسلام محض چند مذہبی رسوم کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تصورِ حیات پیش کرتا ہے۔ جب کوئی ایسا فکری نظام، جو زندگی، آزادی، اخلاق، خاندان، مذہب اور انسان کے بارے میں مختلف تصورات رکھتا ہو، مسلسل میڈیا کے ذریعے عام کیا جائے تو لازماً اس کے اثرات مسلم ذہن پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ خصوصاً نوجوان نسل، جو اپنی شخصیت، شناخت اور مستقبل کی تشکیل کے مرحلے میں ہوتی ہے، اس اثر پذیری کا سب سے بڑا ہدف بنتی ہے۔

اس مضمون میں سوشل میڈیا کو جدید تہذیبی طاقت کے طور پر زیرِ بحث لاتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح لبرل ازم کے بعض تصورات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے الگورتھمز، انفلوئنسر کلچر اور بصری میڈیا کے ذریعے مسلم نوجوانوں کے ذہن پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ مزید برآں اسلامی تصورِ حیات اور لبرل فکر کے مابین بنیادی امتیازات، اس تہذیبی چیلنج کے نتائج اور اسلام کی روشنی میں اس کے ممکنہ حل پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ تہذیبی یلغار: مفہوم و تصور

اصطلاحی اعتبار سے تہذیب اس جامع نظامِ حیات کا نام ہے جس کے تحت کسی قوم کے عقائد، اخلاق، قوانین، سماجی ادارے، معاشی اصول، سیاسی تصورات، علمی روایات اور جمالیاتی ذوق تشکیل پاتے ہیں۔ گویا تہذیب کسی قوم کی اجتماعی شخصیت کا مکمل اظہار ہوتی ہے۔مشہور مسلم مؤرخ ابن خلدون کے نزدیک تہذیب صرف مادی ترقی کا نام نہیں بلکہ انسانی اجتماع کی وہ منظم صورت ہے جس میں علم، سیاست، معیشت، اخلاق اور مذہب ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہو کر ایک مکمل معاشرتی نظام تشکیل دیتے ہیں۔

مغربی مفکرین بھی تہذیب کو محض سائنسی ترقی تک محدود نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک بھی تہذیب ایک ایسا اجتماعی نظام ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تاہم مغربی فکر میں اکثر تہذیب کی بنیاد انسانی عقل، تجربے اور تاریخی ارتقا کو قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اسلامی تصور میں تہذیب کی بنیاد وحیِ الٰہی، اخلاقِ نبوی اور انسانی فطرت کے باہمی امتزاج پر قائم ہے۔

تہذیبی یلغار سے مراد وہ منظم یا غیر منظم عمل ہے جس کے ذریعے ایک تہذیب دوسری تہذیب کے عقائد، اقدار، اخلاق، طرزِ زندگی اور فکری بنیادوں کو متاثر کرنے یا تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔عصرِ حاضر میں تہذیبی یلغار کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہےکہ لوگوں کے افکار و عقائد اور خیالات کو تفریح، تعلیم، میڈیا، اشتہارات، فلموں، فیشن، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس انداز سے متاثر کیا جاتا ہے کہ لوگ خود ہی غالب تہذیب کے طرزِ زندگی کو ترقی، آزادی اور کامیابی کی علامت سمجھنے لگتےہیں۔ایسی صورت میں بظاہر ذہنی ٓزادی تو برقرار رہتی ہے مگر فکری استعمار لگاتار اس کی جڑوں کو کمزور کرتا چلا جاتا ہے۔

مسلمانوں کو تقریبا ہر دور میں فکری اور تہذیبی چیلنجز کامسلسل سامنا رہا ہے۔عباسی دور میں یونانی فلسفے کے تراجم نے ایک نئی علمی فضا پیدا کی۔ مسلمان علماء نے اس چیلنج سے فرار اختیار کرنے کے بجائے تنقیدی مطالعہ کیا، مفید علوم سے استفادہ کیا اور غیر اسلامی نظریات کا علمی جواب بھی دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں اسلامی تہذیب نے اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے علمی ترقی کی نئی مثالیں قائم کیں۔بعد ازاں صلیبی جنگوں اور تاتاری حملوں نے مسلم دنیا کو متاثر کیا، لیکن ان سے زیادہ دیرپا اثرات نوآبادیاتی دور نے مرتب کیے۔ یورپی طاقتوں نے صرف مسلم ممالک پر سیاسی قبضہ نہیں کیا بلکہ ان کے تعلیمی نظام، قانونی ڈھانچے، زبان، نصاب، معاشرت اور فکری ترجیحات کو بھی تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی۔ اسی لیے متعدد مسلم مفکرین نے نوآبادیات کو صرف سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی استعمار بھی قرار دیا ہے۔الجزائری مفکر مالک بن نبی نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ کسی قوم کو غلام بنانے سے پہلے اس کے ذہن کو غلام بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی معاشرہ اپنی تہذیبی خود اعتمادی کھو دیتا ہے تودیگر تہذیبی افکار اس کی شناخت پر با ٓسانی غلبہ حاصل کرلیتے ہیں ۔

لبرل ازم: تصور، پس منظر اور بنیادی اصول

معاصر دنیا میں جن فکری نظریات نے سیاست، قانون، معیشت، تعلیم، انسانی حقوق اور سماجی اقدار کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، ان میں لبرل ازم (Liberalism) کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ جدید مغربی ریاست، جمہوری اداروں، انسانی حقوق کے بیشتر بین الاقوامی منشورات پر کسی نہ کسی درجے میں لبرل فکر کے اثرات نمایاں ہیں۔ لہذا لبرل ازم محض ایک سیاسی نظریہ نہیں رہا بلکہ ایک تہذیبی اور فکری رجحان کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو دنیا کے مختلف معاشروں، بالخصوص نوجوان نسل کے طرزِ فکر اور طرزِ زندگی پر اثرانداز ہو رہا ہے۔

اصطلاحی اعتبار سے لبرل ازم ایک ایسا فلسفۂ سیاست و معاشرت ہے جس کے مطابق انسان بنیادی طور پر آزاد پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس کی آزادی پر پابندی صرف اسی حد تک جائز ہے جہاں وہ دوسروں کی آزادی کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس تصور میں فرد کو معاشرے اور ریاست پر بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے، جبکہ ریاست کا بنیادی فر یضہ فرد کے حقوق کا تحفظ قرار دیا جاتا ہے۔یہ امر ملحوظ رہے کہ لبرل ازم کوئی جامد نظریہ نہیں بلکہ ایک ارتقائی فکری روایت ہے۔ اٹھارہویں صدی کا لبرل ازم، انیسویں صدی کے لبرل ازم سے مختلف ہے، اور اکیسویں صدی میں اس کے اندر بھی متعدد فکری رجحانات پیدا ہو چکے ہیں، مثلاً کلاسیکی لبرل ازم، سماجی لبرل ازم، معاشی لبرل ازم اور جدید ثقافتی لبرل ازم۔

کسی بھی نظریے کی پیدائش اچانک نہیں ہوتی بلکہ وہ مخصوص تاریخی حالات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں مذہبی اداروں اور بادشاہت کے درمیان ایک مضبوط اتحاد قائم تھا۔ کلیسا صرف مذہبی معاملات ہی نہیں بلکہ سیاست، تعلیم، قانون اور علمی تحقیق پر بھی گہرا اثر رکھتا تھا۔ بعض اوقات مذہبی اختیارات کے غلط استعمال، سائنسی تحقیقات کی مخالفت اور سیاسی استبداد نے عوام میں بے چینی پیدا کی۔ یہی حالات بعد میں اصلاحِ مذہب (Reformation) اور تحریکِ تنویر (Enlightenment) کی راہ ہموار کرنے کا باعث بنے۔

سولہویں صدی میں یورپ کے اندر اصلاحِ مذہب کی تحریک اٹھی، جس نے کلیسا کی مطلق مذہبی اور سیاسی بالادستی کو چیلنج کیا۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ مذہبی ادارے احتساب سے بالاتر نہیں ہونے چاہییں اور افراد کو مذہبی معاملات میں بھی غور و فکر اور انتخاب کا حق حاصل ہونا چاہیے۔اس تحریک کے نتیجے میں یورپ کے مذہبی اور سیاسی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ مختلف ریاستوں نے کلیسا کے اثر سے خود کو آزاد کرنا شروع کیا، اور آہستہ آہستہ مذہب اور ریاست کے تعلق پر نئے مباحث جنم لینے لگے۔یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے بعد میں سیکولر ریاست اور لبرل سیاست کے ابتدائی تصورات نے جنم لیا۔

سترھویں اور اٹھارہویں صدی کی تحریکِ تنویر نے لبرل ازم کی فکری بنیادوں کو مزید مضبوط کیا۔ اس تحریک کے مفکرین نے انسانی عقل، تجربے، سائنسی تحقیق اور تنقیدی سوچ کو غیر معمولی اہمیت دی۔ان کے نزدیک انسان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہییں اور سیاسی نظام عوام کی رضامندی پر قائم ہونا چاہیے، نہ کہ موروثی بادشاہت یا غیر محدود مذہبی اقتدار پر۔یہ تحریک جدید مغربی سیاسی فکر کی تشکیل میں سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اسی دور میں قانون کی حکمرانی، شہری آزادیوں، آئینی حکومت اور بنیادی انسانی حقوق جیسے تصورات مضبوط ہوئے، جنہوں نے بعد میں جدید جمہوری ریاستوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

چودھویں سے سولہویں صدی کے درمیان یورپ میں ایک عظیم علمی و ثقافتی تحریک برپا ہوئی جسے نشاۃِ ثانیہ کہا جاتا ہے۔ اس تحریک نے یونانی و رومی علوم کے احیاء، فنونِ لطیفہ، سائنسی تحقیق اور انسانی عقل کی اہمیت کو فروغ دیا۔نشاۃِ ثانیہ کا سب سے اہم اثر یہ تھا کہ انسان کو کائنات کے فعال اور بااختیار فرد کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں فرد کی صلاحیتوں، آزادی اور شخصی تشخص پر زیادہ توجہ دی گئی۔ اگرچہ اس تحریک کے بہت سے مثبت نتائج سامنے آئے، جیسے سائنسی ترقی، علمی تحقیق اور فنون کا فروغ، لیکن اسی ماحول نے بعد میں مذہب کو ایک اختیاری امر کے طور پر متعارف کرایا۔

لبرل فکر کی تشکیل میں متعدد مفکرین نے کردار ادا کیا، تاہم چند شخصیات کا اثر غیر معمولی رہا۔جان لاک نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان فطری طور پر زندگی، آزادی اور ملکیت کے حقوق رکھتا ہے، اور حکومت کا اصل مقصد انہی حقوق کا تحفظ ہے۔ اگر حکومت ان حقوق کی حفاظت میں ناکام ہو جائے تو عوام کو اسے تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے۔مونٹیسکیو نے اختیارات کی تقسیم (Separation of Powers) کا نظریہ پیش کیا، جس کا مقصد اقتدار کے ارتکاز کو روکنا تھا۔جان اسٹورٹ مل نے آزادیِ اظہار، فکری آزادی اور انفرادی خودمختاری کی مضبوط وکالت کی۔ ان کے نزدیک معاشرے کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب افراد کو سوچنے، اختلاف کرنے اور اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہو۔ان مفکرین کے نظریات نے جدید مغربی سیاسی فلسفے، جمہوری اداروں اور انسانی حقوق کے مباحث پر گہرے اثرات مرتب کیے، اور بعد کی صدیوں میں لبرل ازم ایک منظم فکری روایت کی صورت اختیار کرتا گیا۔

جدید لبرل ازم کے اہم اجزاء میں سیکولرزم بھی شامل ہے، اگرچہ ہر لبرل مفکر اس کی یکساں تعبیر نہیں کرتا۔ بنیادی طور پر سیکولر فکر مذہب اور ریاست کے تعلق کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ سیاسی فیصلے مذہبی اداروں کے بجائے عوامی نمائندوں اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر کیے جائیں۔

لیکن اسلامی تہذیب کی تاریخ اس سے مختلف رہی ہے۔ اسلام میں مذہب محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ اخلاق، قانون، معیشت، معاشرت اور اجتماعی عدل کے لیے بھی اصول فراہم کرتا ہے۔اسلام آزادی کا مخالف نہیں بلکہ اس کا ایک مختلف تصور پیش کرتا ہے۔ اسلام انسان کو غلامی سے نجات، ظلم کے خاتمے، عزتِ نفس، عدل، مساوات اور انسانی کرامت کی تعلیم دیتا ہے، لیکن اس آزادی کو اخلاقی جواب دہی اور بندگیِ الٰہی سے الگ نہیں کرتا۔اسلام فرد اور معاشرے کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ وہ نہ فرد کو اجتماعی نظام میں گم کر دیتا ہے اور نہ معاشرے کو انفرادی خواہشات کے تابع بنا دیتا ہے۔ یہی توازن اسلامی تہذیب کی نمایاں خصوصیت ہے۔

سوشل میڈیا: ایک طاقتور فکری ہتھیار

موجودہ صدی کو بجا طور پر “ڈیجیٹل عہد” کہا جاتا ہے۔ اگر بیسویں صدی میں پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور ٹیلی ویژن رائے عامہ کی تشکیل کے اہم ذرائع تھے تو اکیسویں صدی میں یہ مقام سوشل میڈیا نے حاصل کر لیا ہے۔ سوشل میڈیا اب محض باہمی رابطے کا وسیلہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر ابلاغی نظام بن چکا ہے جو انسان کی معلومات، جذبات، ترجیحات، سماجی رویوں، سیاسی رجحانات اور حتیٰ کہ اس کی تہذیبی شناخت کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس نے انسانی زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں۔ علم تک رسائی، عالمی روابط، دعوت و تبلیغ، تعلیمی سرگرمیاں، سماجی خدمات اور اظہارِ رائے کے نئے امکانات اسی کے ذریعے وجود میں آئے ہیں۔ لیکن ہر طاقتور ذریعہ اپنے ساتھ بعض خدشات بھی لاتا ہے۔ جب یہی پلیٹ فارم مخصوص فکری بیانیوں، تہذیبی رجحانات اور نظریاتی تصورات کی مسلسل اشاعت کا ذریعہ بن جائیں تو ان کا کردار محض ابلاغی نہیں رہتا بلکہ وہ ذہن سازی (Mind Formation) اور تہذیبی تشکیل (Cultural Formation) کے مؤثر آلات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

ڈیجیٹل انقلاب نے معلومات تک رسائی کو غیر معمولی حد تک آسان بنا دیا ہے۔ ایک عام فرد چند لمحوں میں دنیا کی بڑی لائبریریوں، جامعات، اخبارات، جرائد اور علمی ذخائر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ صورتِ حال علم کے فروغ کے لیے نہایت مثبت معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کی کثرت (Information Overload) ہے۔ جب صحیح، غلط، مستند، غیر مستند، علمی، جذباتی، تبلیغی، تجارتی اور سیاسی مواد ایک ہی رفتار سے انسان کے سامنے آنے لگے تو عام قاری کے لیے حقیقت اور تاثر (Reality and Perception) کے درمیان فرق کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔فکری انتشار کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر ہر شخص بیک وقت مقرر، مبصر، ناقد، مفتی اور تجزیہ نگار بن سکتا ہے۔ رائے دینے کے لیے نہ کسی علمی اہلیت کی شرط ہے اور نہ ہی کسی ادارہ جاتی ذمہ داری کی پابندی۔ نتیجتاً علمی مسائل بھی جذباتی نعروں اور مختصر ویڈیوز میں تبدیل ہو جاتے ہیں، اور پیچیدہ فکری مباحث چند سیکنڈ کے کلپس میں سمیٹ دیے جاتے ہیں۔یہ صورتِ حال مسلم نوجوانوں کے لیے مزید حساس ہے، کیونکہ دینی علوم اپنی فطرت میں گہرائی، تدریج، استناد اور علمی روایت کے متقاضی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا فوری تاثر، جذباتی اپیل اور مختصر اظہار کو ترجیح دیتا ہے۔ اس تضاد کے نتیجے میں بہت سے نوجوان مطالعہ، تحقیق اور اہلِ علم سے استفادے کے بجائے وائرل مواد کو علم کا متبادل سمجھنے لگتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی سب سے غیر معمولی خصوصیت اس کے الگورتھمز ہیں۔ الگورتھم دراصل ایسے ریاضیاتی اور کمپیوٹرائزڈ نظام ہیں جو صارف کے ہر عمل کا تجزیہ کرتے ہیں؛ وہ کن ویڈیوز پر زیادہ دیر رکتا ہے، کن موضوعات کو پسند کرتا ہے، کس قسم کے صفحات دیکھتا ہے، کن لوگوں سے رابطہ رکھتا ہے اور کن خیالات سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔یہ معلومات محض تکنیکی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوتیں بلکہ انہی کی بنیاد پر ہر صارف کے لیے ایک الگ ڈیجیٹل دنیا تشکیل دی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ انسان کو وہی مواد زیادہ دکھایا جاتا ہے جس سے اس کی دلچسپی برقرار رہے۔ بظاہر یہ سہولت محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں انسان ایک محدود فکری دائرے (Echo Chamber) میں محصور ہو جاتا ہے جہاں مخالف آراء، متوازن تجزیے اور علمی اختلافات اس کی نظروں سے اوجھل رہنے لگتے ہیں۔اسی عمل کو جدید ابلاغی مطالعات میں “Mind Shaping” یا “Behavioural Influence” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی شخص کو براہِ راست کوئی نظریہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے سامنے ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں کہ وہ خود اسی نتیجے تک پہنچے جس کی سمت الگورتھم اسے لے جا رہا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا نے ایک نئی سماجی قوت کو جنم دیا ہے جسے “انفلوئنسر کلچر” کہا جاتا ہے۔ ماضی میں رائے عامہ کی تشکیل میں علماء، اساتذہ، دانشور، ادیب اور صحافی نمایاں کردار ادا کرتے تھے، لیکن آج لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد کی فکری ترجیحات ایسے افراد سے متاثر ہوتی ہیں جن کی اصل شہرت ان کی علمی قابلیت نہیں بلکہ ان کی مقبولیت، طرزِ گفتگو یا تفریحی انداز ہوتی ہے۔یہ تبدیلی صرف سماجی نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہے۔ نوجوان نسل شعوری یا غیر شعوری طور پر انہی شخصیات کو اپنا آئیڈیل بناتی ہے جنہیں سوشل میڈیا مسلسل نمایاں کرتا ہے۔ ان کے لباس، زبان، طرزِ زندگی، تعلقات، ترجیحات اور اقدار بھی رفتہ رفتہ قابلِ تقلید محسوس ہونے لگتے ہیں۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر انفلوئنسر منفی کردار ادا کرتا ہے۔ بہت سے دینی، تعلیمی اور سماجی شخصیات بھی انہی پلیٹ فارمز کے ذریعے مثبت خدمات انجام دے رہی ہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مقبولیت (Popularity) کو حقانیت (Truth) کا معیار سمجھ لیا جائے، اور “فالوورز” کی تعداد علمی وزن کا متبادل بن جائے۔

ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز، یوٹیوب شارٹس اور دیگر شارٹ ویڈیو پلیٹ فارمز نے ابلاغ کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ اب چند سیکنڈ کی ویڈیو لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔شارٹ ویڈیوز کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل سے زیادہ جذبات کو مخاطب کرتی ہیں۔ موسیقی، بصری اثرات، ڈرامائی انداز، تیز رفتار منظر کشی اور مؤثر جملے مل کر ایسا تاثر پیدا کرتے ہیں جو طویل علمی گفتگو سے کہیں زیادہ دیر تک ذہن میں رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نظریات بھی اب کتابوں سے زیادہ بصری علامتوں، جذباتی کہانیوں اور وائرل کلپس کے ذریعے منتقل کیے جا رہے ہیں۔ جب کسی تصور کو بار بار دلکش انداز میں پیش کیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ عام شعور کا حصہ بن جاتا ہے، خواہ اس کے حق میں مضبوط علمی دلائل موجود نہ ہوں۔

سوشل میڈیا اور لبرل بیانیئے کی ترویج

اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا محض رابطے اور تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ افکار، اقدار اور طرزِ زندگی کی تشکیل کا ایک طاقتور وسیلہ بن چکا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف معلومات منتقل نہیں کرتے بلکہ مخصوص زاویۂ نظر، ترجیحات اور سماجی رویوں کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ اسی لیے معاصر ابلاغی علوم میں میڈیا کو “بیانیہ سازی” (Narrative Building) کا سب سے مؤثر آلہ قرار دیا جاتا ہے۔بیانیہ (Narrativeسے مراد واقعات اور نظریات کی ایسی تعبیر ہے جو کسی مخصوص فکر یا طرزِ زندگی کو فطری، معقول اور قابلِ قبول بنا کر پیش کرے۔جب یہی عمل مسلسل فلموں، ڈراموں، اشتہارات، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے انجام پائے تو وہ آہستہ آہستہ اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔چنانچہ لبرل بیانیہ کی ترویج میں بھی اس نے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

مسلم ذہن پر لبرل فکر کے اثرات یکساں اور مطلق نہیں، بلکہ ان کی نوعیت مختلف معاشروں، تعلیمی پس منظر اور فکری تربیت کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سوشل میڈیا، تفریحی صنعت اور عالمی ابلاغی نظام مخصوص فکری تعبیرات کو مسلسل فروغ دیتے ہیں تو مذہبی یقین، تہذیبی خود اعتمادی اور اسلامی شناخت پر ان کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔جس کے نتیجے میں عام مسلم سماج شناختی بحران ،خاندانی نظام کی کمزوری، اخلاقی اقدار میں تبدیلی، دین و دنیا کی تقسیم کا تصور، امت کے فکری اتحاد پر منفی اثرات،تہذیبی خود اعتمادی میں کمی، فکری انحصار اور تخلیقی صلاحیتوں کا زوال جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

ہر تبدیلی میں نوجوان طبقہ سب سے زیادہ اثر قبول کرتا ہے، کیونکہ یہی عمر شخصیت سازی، فکری تشکیل اور اقدار کے تعین کا مرحلہ ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں بھی مسلم نوجوان عالمی ڈیجیٹل ماحول، تیز رفتار ابلاغ اور متنوع فکری بیانیوں سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نوجوان کیوں متاثر ہوتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ دوسروں کی نسبت زیادہ اثرپذیر کیوں ہیں؟ اس کی وجوہات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی، فکری، خاندانی اور سماجی عوامل بھی اس میں شریک ہیں۔جیسے دینی بصیرت کی کمی، تنقیدی فکر کا بہتان، سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ وقت گزارنا، سلیبریٹی کلچر، اوپن ڈسکشن کی کمی،شناخت کی کھوج اور دیگر نفسیاتی وسماجی عوامل وغیرہ ۔ان چیلنجز کا جواب، نہ دنیا سے کنارہ کشی ہے اور نہ جدید علوم و ٹکنالوجی سے بے اعتنائی، بلکہ مضبوط دینی بصیرت، تنقیدی شعور، علمی اعتماد اور متوازن مکالمہ ہے۔ ایک ایسا مسلم ذہن جو اپنی روایت سے بھی واقف ہو اور عصرِ حاضر کے فکری مباحث کو بھی سمجھتا ہو، وہی اس تہذیبی کشمکش میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

کسی بھی فکری یا تہذیبی چیلنج کا مؤثر جواب محض ردِ عمل یا جذباتی نعروں سے نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ایک جامع علمی، تربیتی اور عملی حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا، لبرل افکار اور عالمی ثقافتی اثرات سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل بھی جدید ذرائع ابلاغ سے کنارہ کشی یا دنیا سے انقطاع میں نہیں، بلکہ ایسے متوازن طرزِ عمل میں ہے جو ایک طرف اسلامی اصولوں سے مضبوط وابستگی پیدا کرے اور دوسری طرف عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی عطا کرے۔ اسلام نے ہر دور میں علم، حکمت، اعتدال اور بصیرت کو دعوت و اصلاح کا بنیادی ذریعہ قرار دیا ہے، اسی لیے موجودہ تہذیبی چیلنج کا جواب بھی انہی اصولوں کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیے۔

اکیسویں صدی کا انسان معلومات کے بے مثال سیلاب میں زندگی گزار رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں افکار، تہذیبیں اور نظریات ہر لمحہ ایک دوسرے سے برسرِ تعامل ہیں۔ اس ماحول میں مسلم معاشروں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی کا وجود نہیں بلکہ اس کے ذریعے منتقل ہونے والے فکری اور تہذیبی اثرات ہیں۔اسلام علم، تحقیق، مکالمہ اور حکمت کا دین ہے۔ اس نے کبھی علم سے فرار یا زمانے سے لاتعلقی کی تعلیم نہیں دی، بلکہ ہر دور کے چیلنجز کا مقابلہ علم، اخلاق اور بصیرت سے کرنے کی تلقین کی ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا یا جدید تہذیب کو مطلق خیر یا مطلق شر قرار دینا ایک غیر متوازن رویہ ہوگا۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان جدید ذرائع ابلاغ سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اپنی فکری خودمختاری، دینی شناخت اور اخلاقی اقدار کو محفوظ رکھیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ فکری خود اعتمادی صرف ماضی کے کارناموں پر فخر سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ علم، تحقیق، کردار اور تخلیقی صلاحیت سے وجود میں آتی ہے۔ اگر مسلم نوجوان قرآن و سنت کی رہنمائی، تنقیدی فکر، عصری علوم اور جدید ذرائع ابلاغ کے مثبت استعمال کو یکجا کر لیں تو وہ نہ صرف تہذیبی یلغار کا مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک متوازن، عادلانہ اور انسان دوست تہذیبی بیانیہ بھی پیش کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر اسما ء فیروز

ق

ڈاکٹر اسماء فیروز

(شعبہ اردو و اسلامیات)

معاشرتی مسائل، نسوانی حقوق اور اسلامی تہذیب پر تحقیقی مقالہ نگار۔

مصنف کے تمام مضامین دیکھیں ←